کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 54
اپنی نہیں ہوتیں، بلکہ ایک خاص عقیدہ و ایمان رکھنے والے گروہ کی ہوتی ہیں۔ اہلِ رفض و تشیع کی ایک اصطلاح ’’امامت‘‘ ہے۔ کوئی شخص یہ کہے کہ میرے نزدیک اس کا مطلب دو رکعت نماز کی امامت ہے۔ کوئی شیعہ اس شخص کی اس رائے کو تسلیم نہیں کرے گا، حالاں کہ یہ لفظ ہمارے ہاں اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کا عقیدۂ امامت سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیوں کہ وہ ایک گروہ کی خاص اصطلاح ہے۔ ختمِ نبوت، اہلِ سنت کی ایک اصطلاح ہے، جس کا مفہوم واضح ہے، لیکن ایک گروہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہم بھی ختمِ نبوت کے قائل ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اِجرائے نبوت کے بھی قائل ہیں۔ کون مسلمان ہے، جو یہ تسلیم کرے گا کہ مرزائی واقعی ختمِ نبوت کے قائل ہیں؟ اسی طرح غامدی و اصلاحی اور فراہی کا حدیث و سنت کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ان کو مانتے ہیں، لیکن ان کے اُس اصطلاحی مفہوم کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جو چودہ سو سال سے حدیث و سنت کی اصطلاح کا مفہوم مسلّم چلا آرہا ہے۔ چودہ سو سالہ مسلّمہ اصطلاحات کا ایک نیا مفہوم گھڑ کر کہتے ہیں کہ میں ’’حدیث و سنت‘‘ کو مانتا ہوں۔ یہ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے اور کس طرح یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ وہ واقعی حدیث و سنت کو ماننے والے ہیں؟ اس لیے سب سے پہلے یہ اعتراف کر لینا چاہیے کہ وہ حدیث و سنت کے منکر ہیں اور غامدی صاحب کا یہ دعویٰ کہ میرے اور علما کے درمیان: ’’محض اصطلاحات کا اختلاف ہے، ورنہ حقیقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو میرے اور ائمہ سلف کے موقف میں سرمو فرق نہیں ہے۔‘‘[1] [1] ’’الشریعہ‘‘ (اپریل ۲۰۰۹ء)