کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 50
صحابہ نے اپنے اختلافات میں حدیث کو حَکَم قرار دیا: صحابۂ کرام کے بابرکت دور کو دیکھ لیجیے، آپ کو نمایاں طور پر یہ چیز ملے گی کہ ان کے مابین مسائل میں اختلاف ہوتا تو حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معلوم ہوتے ہی وہ اختلاف ختم ہوجاتا اور حدیث کے آگے سب سرِ تسلیم خم کر دیتے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی تدفین اور آپ کی جانشینی کے مسئلے میں اختلاف ہوا، جب تک ان کی بابت حدیث کا علم نہ ہوا، اس پر گفتگو ہوتی رہی، لیکن جوں ہی حدیث پیش کی گئی، مسئلے حل ہوگئے۔ تدفین کے مسئلے میں بھی اختلاف ختم ہوگیا اور جانشینی جیسا معرکہ آرا مسئلہ بھی پلک جھپکتے حل ہوگیا۔ اس طرح متعدد قضایا اور واقعات ہیں جن میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ حدیثِ رسول کو بلا تأمل حجتِ شرعیہ سمجھا گیا اور اس کا علم ہوتے ہی بحث و تکرار کی بساط لپیٹ دی گئی۔ عہدِ صحابہ کے بعد تابعین و تبع تابعین اور ائمہ و محدثین کے ادوار میں بھی حدیثِ رسول کی یہ تشریعی حیثیت قابلِ تسلیم رہی، بلکہ کسی دور میں بھی اہلِ سنت و الجماعت کے اندر اس مسئلے میں اختلاف ہی نہیں رہا۔ حدیثِ رسول کی یہی وہ تشریعی اہمیت تھی، جس کے لیے اﷲ تعالیٰ نے تکوینی طور پر محدثین کا ایسا بے مثال گروہ پیدا فرمایا، جس نے حدیثِ رسول کی حفاظت کا ایسا سروسامان کیا کہ انسانی عقلیں ان کاوشوں کو دیکھ کر دنگ رہ گئیں اور محدثین نے حدیث کی تہذیب و تنقیح کے لیے ایسے علوم ایجاد کیے، جومسلمانوں کے لیے سرمایۂ صد افتخار ہیں۔ اگر حدیثِ رسول کی یہ تشریعی اہمیت نہ ہوتی، جس طرح کہ آج کل باور کرایا جا رہا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ محدثین رحمہم اللہ کو حفاظتِ حدیث کے لیے اتنی عرق ریزی اور جگر کاوی کی پھر ضرورت ہی کیا تھی؟