کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 45
اﷲ کافروں سے محبت نہیں رکھتا۔‘‘ وغیرھا من الآیات۔ نیز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو اﷲ تعالیٰ نے بطورِ آمر و ناہی مطاعِ مطلق کی حیثیت سے بیان فرمایا: {مَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا} [الحشر: ۷] ’’رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمھیں جو دیں، وہ لے لو اور جس سے وہ روک دیں، رک جاؤ۔‘‘ سورۃ النور کے آخر میں فرمایا: {فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ} [النور: ۶۳] ’’جو لوگ اس (رسول) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، وہ اس بات سے ڈریں کہ ان پر کوئی آزمایش آجائے یا ان کو کوئی دردناک عذاب آپہنچے۔‘‘ اسی طرح قرآن کریم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو فرائضِ منصبی بیان فرمائے ہیں، ان میں تلاوتِ آیات کے ساتھ ساتھ تعلیمِ کتاب و حکمت کا بھی ذکر ہے۔[1] ظاہر بات ہے کہ یہ تعلیمِ کتاب و حکمت، تلاوتِ آیات سے یکسر مختلف چیز ہے۔ اگر آپ کا مقصدِ بعثت تلاوتِ آیات ہی ہوتا، اس کی تعلیم و تشریح آپ کی ذمے داری نہ ہوتی تو قرآن تعلیمِ کتاب و حکمت کے الگ عنوان سے اس کا ذکر کبھی نہ کرتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تعلیمِ کتاب و حکمت بھی آپ کا منصب ہے اور اس سے مراد آپ کی وہی تشریح و تبیین ہے جس کی وضاحت گذشتہ صفحات میں کی گئی ہے۔ [1] دیکھیں: الجمعۃ [آیت: ۲] البقرۃ [آیت: ۱۵۱[