کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 364
قادر ہو گیا، حتی کہ اگر ایک مرتبہ اس نے ادھوری مباشرت بھی کر لی۔[1] تو عورت کو فسخِ نکاح کا حق نہیں ہے، بلکہ یہ حق ہمیشہ کے لیے باطل ہوگیا۔ اگر عورت کو نکاح کے وقت معلوم تھا کہ وہ نامرد ہے اور پھر وہ نکاح پر راضی ہوئی تو اس کو سرے سے قاضی کے پاس دعویٰ ہی لے جانے کا حق نہیں۔[2] اگر اس نے نکاح کے بعد ایک مرتبہ مباشرت کی اور پھر نامرد ہوگیا، تب بھی عورت کو دعویٰ کرنے کا حق نہیں۔[3] اگر عورت کو نکاح کے بعد شوہر کے نامرد ہونے کا علم حاصل ہو اور وہ اس کے ساتھ رہنے پر اپنی رضا مندی کا اظہار کر دے، تب بھی وہ ہمیشہ کے لیے خیارِ فسخ سے محروم ہوگئی۔[4] ان صورتوں میں عورت کا خیارِ فسخ تو یوں باطل ہوگیا۔ اس کے بعد ایسے ناکارہ شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے کی دوسری صورت یہ رہ جاتی ہے کہ وہ خلع کر لے، مگر وہ اس کو مل نہیں سکتا، کیوں کہ شوہر سے مطالبہ کرتی ہے تو وہ اس کا پورا مہر بلکہ مہر سے کچھ زائد لے کر بھی چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا اور عدالت سے رجوع کرتی ہے تو وہ اس کو مجبور کر کے طلاق دلوانے یا تفریق کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ اب غور کیجیے کہ اس غریب عورت کا حشر کیا ہو گا؟ بس یہی ناکہ یا تو وہ خود کشی کر لے یا عیسائی راہبات کی طرح نفس کشی کی زندگی بسر کرے اور اپنے [1] في رد المحتار: عن المعراج إذا أولج الحشفۃ فقط فلیس بعنین وإن کان مقطوعاً فلا بد من إیلاج بقیۃ الذکر۔ [2] في العالمکیریۃ إن علمت المرأۃ وقت النکاح أنہ عنین لا یصل إلی النساء لا یکون لھا حق الخصومۃ۔ [3] في الدر المختار: فلو جب بعد وصولہ إلیھا مرۃ أو صار عنیناً بعدہ أي الوصول لا یفرق لحصول حقھا بالوطی مرۃ۔ [4] قال الشامي قولہ: لم یبطل أي ما لم تقل: رضیتُ بالمقام معہ۔