کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 361
اس تعلق میں بندھی رہے، خواہ حدود اﷲ پر قائم رہنا اس کے لیے محال ہی کیوں نہ ہو جائے اور مناکحت کے شرعی مقاصد بالکل ہی کیوں نہ فوت ہوجائیں۔ کیا کسی میں اتنی جسارت ہے کہ اﷲ اور اس کے رسول کی شریعت پر اتنی کھلی ہوئی بے انصافی کا الزام عائد کر سکے؟ یہ جسارت اگر کوئی کرے تو اسے اقوالِ فقہا سے نہیں، بلکہ کتاب و سنت سے اس کا ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ اﷲ اور رسول نے خلع کے معاملے میں قاضی کو کوئی اختیار نہیں دیا ہے۔ مسئلۂ خلع میں قاضی کے اختیارات: قرآن مجید کی جس آیت میں خلع کا قانون بیان کیا گیا ہے، اس کو پھر پڑھیے: {فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ} [البقرۃ: ۲۲۹] ’’اگر تم کو خوف ہو کہ وہ اﷲ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ان دونوں (یعنی زوجین) پر اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ (یعنی عورت) کچھ فدیہ دے کر علاحدگی حاصل کر لے۔‘‘ اس آیت میں خود زوجین کا ذکر تو غائب کے صیغوں میں کیا گیا ہے، لہٰذا لفظ {خِفْتُمْ} (اگر تم کو خوف ہو) کے مخاطب وہ نہیں ہو سکتے۔ اب لا محالہ یہ ماننا پڑے گا کہ اس کے مخاطب مسلمانوں کے اولی الامر ہیں اور حکمِ الٰہی کا منشا یہ ہے کہ اگر خلع پر زوجین میں باہمی رضا مندی حاصل نہ ہو تو اولی الامر کی طرف رجوع کیا جائے۔ اس کی تائید اُن احادیث سے ہوتی ہے، جو ہم اوپر نقل کر چکے ہیں۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے پاس خلع کے دعوے لے کر عورتوں کا آنا اور آپ کا ان کی سماعت کرنا، خود اس بات کی دلیل ہے کہ جب زوجین میں خلع پر راضی نامہ نہ ہو سکے تو عورت کو قاضی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اب اگر