کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 359
قاضی کو ذوّاقیت کے آثار نظر آئیں تو قاضی سزا کے طور پر اس کو مہر سے زیادہ دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔ مسئلۂ خلع میں ایک بنیادی غلطی: خلع کی اس بحث سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ قانونِ اسلامی میں عورت اور مرد کے حقوق کے درمیان کس قدر صحیح توازن قائم کیا گیا تھا۔ اب یہ ہماری اپنی غلطی ہے کہ ہم نے اپنی عورتوں سے خلع کے حق کو عملاً سلب کر لیا اور اصولِ شرع کے خلاف، خلع دینے یا نہ دینے کو بالکل مردوں کی خواہش پر منحصر ٹھہرا دیا۔ اس سے عورتوں کی جو حق تلفیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں، ان کی ذمہ داری خدا اور رسول کے قانون پر قطعاً نہیں ہے۔ اگر اب بھی عورتوں کے اس حق کا استقرار ہو جائے تو وہ بہت سی گتھیاں سلجھ جائیں، جو ہمارے ازدواجی معاملات میں پیدا ہو گئی ہیں، بلکہ گھتیوں کا پیدا ہونا ہی بند ہو جائے۔ عورت سے خلع کے حق کو جس چیز نے عملاً بالکل سلب کر لیا ہے، وہ یہ غلط خیال ہے کہ شارع نے خلع کا معاملہ کلیتاً زن و شوہر کے درمیان رکھا ہے اور اس میں مداخلت کرنا قاضی کے حدودِ اختیار سے باہر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خلع دینا نہ دینا بالکل مرد کی مرضی پر موقوف ہوگیا ہے۔ اگر عورت خلع حاصل کرنا چاہے اور مرد اپنی شرارت یا خود غرضی سے نہ دینا چاہے تو عورت کے لیے کوئی چارۂ کار نہیں رہتا۔ لیکن یہ بات شارع کے منشا کے بالکل خلاف ہے۔ شارع کا یہ منشا ہرگز نہ تھا کہ معاملۂ نکاح کے ایک فریق کو بالکل بے بس کر کے دوسرے فریق کے ہاتھ میں دے دے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ بلند اخلاقی و تمدنی مقاصد فوت ہوجاتے، جو اس نے مناکحت کے ساتھ وابستہ کیے ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے بیان کیا جا چکا ہے، اسلامی شریعت میں قانونِ ازدوواج