کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 35
الثالث: أن تکون موجبۃ لحکمٍ سکت القرآن عن إیجابہ أو محرِّمۃ لما سکت عن تحریمہ۔ ولا تخرج عن ھذہ الأقسام، فلا تعارض القرآن بوجہٍ ما۔ فما کان منھا زائداً علی القرآن فھو تشریع مبتدأً من النبي صلي الله عليه وسلم تجب طاعتہ فیہ، ولا تحل معصیتہ، ولیس ھذا تقدیما لھا علی کتاب اللّٰه ، بل امتثال لما أمر اللّٰه بہ من طاعۃ رسولہ، ولو کان رسول اللّٰه صلي الله عليه وسلم لا یطاع في ھذا القسم لم یکن لطاعتہ معنیً، وسقطت طاعتہ المختصّۃ بہ، وإنہ إذا لم تجب طاعتہ إلا فیما وافق القرآن، لا فیما زاد علیہ، لم یکن لہ طاعۃ خاصّۃ تختص بہ، وقد قال تعالیٰ: {مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَ مَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا} [النساء: ۸۰]‘‘[1] یعنی ’’حدیثی احکام کی تین صورتیں ہیں: 1۔ایک تو وہ جو من کل الوجوہ قرآن کے موافق ہیں۔ 2۔دوسرے وہ جو قرآن کی تفسیر اور بیان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 3۔تیسرے وہ جن سے کسی چیز کا وجوب یا اس کی حرمت ثابت ہوتی ہے، حالاں کہ قرآن میں اس کے وجوب یا حرمت کی صراحت نہیں۔ احادیث کی یہ تینوں قسمیں قرآن سے معارض نہیں ہیں۔ جو حدیثی احکام زائد علی القرآن ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو واضح کرتے ہیں، یعنی ان کی تشریع و تقنین (قانون سازی) آپ کی طرف [1] إعلام الموقعین (۲/ ۳۱۴) بتحقیق عبد الرحمن الوکیل۔