کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 349
ساتھ رکھے اور جب تین طلاق دے چکے تو پھر وہ عورت تحلیل کے بغیر دوبارہ اس کے نکاح میں نہ آسکے۔ اسی طرح عورت کو بھی خلع کا حق دینے کے ساتھ چند قیود عائد کر دی گئی ہیں، جن کو قرآن مجید اس مختصر سی آیت میں بتمام و کمال بیان کر دیتا ہے: {وَلَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْ ھُنَّ شَیْئًا اِلَّآ اَنْ یَّخَافَآ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ} [البقرۃ: ۲۲۹] ’’تمھارے لیے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ تم بیویوں کو دے چکے ہو، اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔ الا یہ کہ میاں بیوی کو یہ خوف ہو کہ اﷲ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ایسی صورت میں جب کہ تم کو خوف ہو کہ میاں بیوی اﷲ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ کچھ مضائقہ نہیں، اگر عورت کچھ معاوضہ دے کر عقدِ نکاح سے آزاد ہو جائے۔‘‘ اس آیت سے حسبِ ذیل احکام مستنبط ہوتے ہیں: 1 خلع ایسی حالت میں ہونا چاہیے، جب کہ حدود اﷲ کے ٹوٹ جانے کا خوف ہو۔ {فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا} کے الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ اگرچہ خلع ایک بُری چیز ہے، جس طرح کہ طلاق بُری چیز ہے، لیکن جب یہ خوف ہو کہ حدود اﷲ ٹوٹ جائیں گی تو خلع لینے میں کوئی برائی نہیں۔ 2 جب عورت عقدِ نکاح سے آزاد ہونا چاہے تو وہ بھی اسی طرح مال کی قربانی گوارا کرے، جس طرح مرد کو اپنی خواہش سے طلاق دینے کی صورت میں گوارا کرنی پڑتی ہے۔ مرد اگر خود طلاق دے تو وہ اس مال میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتا، جو اس نے عورت کو دیا تھا اور اگر عورت جدائی کی