کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 344
چوتھا سوال یہ ہے کہ اصل شرعی حل کے مقابلے میں حنفی مذہب کے تفویضِ طلاق کو ’’بہترین طریقہ‘‘ قرار دینا، شریعتِ اسلامیہ سے بھی برتری کا اظہار نہیں ہے؟ بہر حال مولانا تقی عثمانی صاحب ’’تفویضِ طلاق‘‘ کے ’’فضائل‘‘ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں، ان کے اقتباس کا دوسرا پیرا ملاحظہ ہو: ’’لیکن چونکہ شرعی احکام سے ناواقفیت عام ہو چکی ہے، اس لیے عام طور پر لوگ نکاح کے وقت شریعت کی دی ہوئی اس سہولت سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور آگے چل کر خواتین مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ایسی خواتین جنھوں نے نکاح کے وقت تفویضِ طلاق کے طریقے کو اختیار نہ کیا ہو، اگر بعد میں کسی شدید مجبوری کے تحت شوہر سے گلو خلاصی حاصل کرنا چاہیں، مثلاً: شوہر اتنا ظالم ہو کہ نہ نفقہ دیتا ہو، نہ آباد کرتا ہو یا وہ پاگل ہو جائے یا مفقود الخبر ہوجائے یا نامرد ہو اور از خود طلاق یا خلع پر آمادہ نہ ہو تو اصل حنفی مسلک میں ایسی عورتوں کے لیے شدید مشکلات ہیں۔ خاص طور پر ان مقامات میں جہاں شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والا قاضی موجود نہ ہو، ایسی عورتوں کے لیے اصل حنفی مسلک میں شوہر کی رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے۔‘‘[1] اس پسِ منظر کے بعد انھوں نے اس امر کی صراحت فرمائی ہے کہ غیر منقسم ہندوستان میں سب سے پہلے خواتین کی ان مشکلات کا احساس مولانا اشرف علی تھانوی اور ان کے حلقۂ ارادت کے چند علما نے کیا اور پھر ان کا جو حل پیش کیا، اس پر اکابر علما کی تصدیقات بھی حاصل کیں۔ [1] حیلۂ ناجزہ (ص: ۹۔ ۱۰)