کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 342
6 ڈاکٹر تنزیل الرحمن (حنفی) نے بھی اپنی کتاب ’’مجموعہ قوانینِ اسلام‘‘ کی جلد دوم میں اپنے حنفی مسلک سے اختلاف کرتے ہوئے متعدد صورتوں میں عورت کے لیے اس حقِ خلع کا اثبات کیا ہے، جو وہ عدالت کے ذریعے سے حاصل کر سکتی ہے۔ 7 آج سے کم و بیش ۸۳ سال قبل ۱۳۵۱ھ میں مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم نے مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اور مولانا مفتی عبدالکریم گتھلوی مرحوم کے تعاون سے ایک کتاب تالیف فرمائی تھی، اس وقت سے اب تک وہ متعدد مرتبہ شائع ہوچکی ہے۔ اس کا تازہ اِڈیشن (فوٹو) دار الاشاعت کراچی سے (فروری ۱۹۸۷ء میں) شائع ہوا ہے۔ اس کا مقدمہ مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے لکھا ہے، جس میں انھوں نے اس کتاب کی تالیف کا پسِ منظر اور مقصد بھی بیان فرمایا ہے اور وہ حسبِ ذیل ہیں: ’’اسلام نے طلاق کا حق بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کی بنا پر زوجین میں سے صرف مرد کو عطا فرمایا ہے، لیکن ساتھ ہی اس بات سے صَرفِ نظر نہیں فرمایا کہ بعض حالات ایسے پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں عورت کو مرد سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے لیے اس سے طلاق یا خلع حاصل ہونے کی کوئی صورت نہ بن سکے۔ حنفی مذہب میں اس کے لیے بہترین طریقہ تفویضِ طلاق کا ہے۔ اگر نکاح کے آغاز ہی میں اس طریقے کو اختیار کر لیا جائے تو ایسے حالات میں کوئی مشکل پیدا نہیں ہوسکتی۔‘‘[1] قارئین سے ہم معذرت خواہ ہیں کہ مولانا عثمانی صاحب کا اقتباس مکمل [1] حیلۂ ناجزہ (ص: ۹)