کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 34
چناں چہ امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ (المتوفی ۴۶۳ ہجری) لکھتے ہیں: ’’وقد أمر اللّٰه عزوجل بطاعتہ واتباعہ أمرا مطلقاً مجملاً، ولم یقید بشییٔ، ولم یقل: ما وافق کتاب اللّٰه ، کما قال بعض أھل الزیغ‘‘[1] ’’اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اطاعت کا مطلقاً حکم دیا ہے اور اسے کسی چیز سے مقید (مشروط) نہیں کیا ہے اور اﷲ نے یہ بھی نہیں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات تم اس وقت ماننا جب وہ اﷲ کی کتاب کے موافق ہو، جس طرح کہ بعض اہلِ زیغ کہتے ہیں۔‘‘ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’إن قول من قال: تعرض السنۃ علی القرآن، فإن وافقت ظاہرہ وإلا استعملنا ظاھر القرآن وترکنا الحدیث، جھل‘‘ یعنی ’’قبولیتِ حدیث کو موافقتِ قرآن سے مشروط کرنا جہالت (قرآن و حدیث سے بے خبری) ہے۔‘‘ سنتِ رسول کی تین قسمیں اور تینوں ہی قابلِ اطاعت ہیں: اسی لیے امام ابن القیم رحمہ اللہ قرآن اور حدیث کے باہم تعلق کو اس طرح بیان فرماتے ہیں: ’’والسنۃ مع القرآن علی ثلاثۃ أوجہ: أحدھا: أن تکون موافقۃ من کل وجہ، فیکون تواردُ القرآن والسنۃ علی الحکم الواحد من باب توارد الأدلّۃ وتظافرھا۔ الثاني: أن تکون بیانا لما أرید بالقرآن وتفسیراً لہ۔ [1] جامع بیان العلم وفضلہ (۲/ ۱۹۰(