کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 338
ایسی صورت میں ’’تراضیِ طرفین‘‘ کس طرح ممکن ہے، جس کو موصوف نہایت جراَت سے قرآن و سنت کے دلائل کے مطابق اور جمہور کا متفقہ فیصلہ باور کرا رہے ہیں؟ پھر مزید ستم ظریفی، قرآن و حدیث کے عطا کردہ حقِ خلع کو، جس کی بابت خاوند کی ہٹ دھرمی کی صورت میں قرآن نے بھی معاشرے کے ذمے داران کو خطاب کر کے {وَاِنْ خِفْتُمْ} کہا ہے کہ تم ان کے درمیان علاحدگی کرا دو اور حدیثِ رسول میں بیان کردہ سیدنا ثابت بن قیس کے واقعے سے بھی اسی امر کا اثبات ہوتا ہے کہ عورت حاکمِ وقت کی طرف رجوع کر سکتی ہے، موصوف اس کو عصرِ حاضر کے متجددین کا موقف قرار دے رہے ہیں؟ یہ قرآن و حدیث میں بیان کردہ حقِ خلع کا صریح انکار نہیں ہے؟ 3 مولانا تقی عثمانی صاحب کے والد گرامی قدر مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم نے قرآن مجید کی اُردو میں نہایت مفصل تفسیر تحریر فرمائی ہے، جو آٹھ ضخیم جلدوں میں ہے، جس کا نام ’’معارف القرآن‘‘ ہے۔ اس میں ہر اہم مسئلے پر مفتی صاحب مرحوم نے خاصی تفصیل سے گفتگو کی ہے، لیکن عجیب بات کہ آیتِ خلع میں خلع کے بارے میں سرے سے انھوں نے نہ صرف یہ کہ کوئی بحث نہیں کی، بلکہ نہایت پُراسرار طریقے سے بالکل خاموشی سے گزر گئے ہیں۔ یہ خاموشی کس بات کی غماز ہے؟ ؎ بے خودی بے سبب نہیں غالب کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے اصل حقیقت تو اﷲ ہی جانتا ہے، لیکن کچھ نہ کچھ اندازہ قرائن و شواہد سے بھی ہوجاتا ہے۔ ہمارے خیال میں اس کی وجہ شاید یہی ہوسکتی ہے کہ خلع کی