کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 332
پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگیا، اب کوئی صورت جائز ہونے کی نہیں ہے اور لازم ہے کہ یہ مرد اس عورت کو طلاق دے دے تو اب سوال یہ ہے کہ جب دونوں اس میں بے قصور ہیں تو طلاق دینے کی کیا وجہ ہے؟ جواب(۳۱۶): بہشتی زیور سے جو مسئلہ آپ نے نقل کیا ہے، یہ مسئلہ حنفیہ کے نزدیک اسی طرح ہے کہ اگر غلطی سے یا قصداً کوئی شخص اپنی لڑکی یا اپنی ساس کے بدن کو بغیر حائل ہاتھ لگا دے اور اس کو خواہش (شہوت) ہو تو اس اس کی لڑکی کی ماں یا ساس کی بیٹی (یعنی ہاتھ لگانے والے کی بیوی) اس پر حرام ہوجاتی ہے۔ اس میں اگرچہ بیوی کا قصور نہیں اور غلطی ہوجانے کی صورت میں مرد کا بھی قصور نہیں، مگر حرمت کی وجہ دوسری ہے، جس میں قصور ہونے نہ ہونے کو دخل نہیں ہے، حنفیہ کا مذہب یہی ہے۔ واللّٰه أعلم. [1] ’’حیلۂ ناجزہ‘‘ میں بھی مولانا تھانوی نے مذکورہ صورتوں میں حرمتِ مصاہرت کا اثبات کیا ہے، جو اکابر علمائے دیوبند کی مصدقہ ہے۔ محولہ مسئلے (یا حیلے) کی بابت دو مستند حوالے: امام شافعی رحمہ اللہ نے مسئلہ زیرِ بحث پر عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں بڑی مفصل بحث کی ہے، جو کئی بڑے صفحات پر مشتمل ہے اور یہ بحث مکالمے کی صورت میں ہے اور اس میں دسیوں قسم کے عقلی و نقلی دلائل سے احناف کے مسئلۂ حرمتِ مصاہرت کا ردّ کیا گیا ہے۔ یہاں اس کی صرف ایک دلیل، جو بطورِ مکالمہ ہی ہے، پیش کی جاتی ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں نے اس (فریقِ مخالف) کو کہا: اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: [1] کفایت المفتی (۵/ ۱۹۳)