کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 331
2۔ مفتی کفایت اﷲ صاحب مفتیِ اعظم ہند کا فتویٰ: سوال زید سے بحالتِ شہوت غلطی سے مساسِ بنت واقع ہوا، معلوم ہوتے ہی تائب و نادم ہوا ۔۔۔ غلطی اور غیر غلطی کا بھی کچھ فرق ہے یا نہیں؟ برتقدیر حرام ہونے ام ممسوسہ کے اس مسئلے میں احناف کے نزدیک کوئی حیلۂ شرعی معتبر ہے یا نہیں؟ جواب(۳۰۱): مس بالشہوت میں غلطی اور قصد اور سہو کا کوئی فرق نہیں ہے۔ ’’ ثم لا فرق في ثبوت الحرمۃ بالمس بین کونہ عامداً أو ناسیاً أو مکرھاً أو مخطئاً، کذا في فتح القدیر (عالمگیری) ۔۔۔‘‘[1] سوال ایک شخص نے بعمر تقریباً ۶۵ سال بطورِ محبت بلا ارادۂ صحبت اپنے لڑکے کی بیوی کو پیار کیا، یعنی بوسہ لے لیا، قصد بالکل کوئی دوسرا نہیں اور نہ ارتکاب کیا گیا۔ اس کے لیے شرع کیا حکم دیتی ہے اور اگر اس کی عورت اس پر حرام ہوگئی تو اس کا نان و نفقہ اور رہایش کا کیا حکم ہے؟ جواب(۳۱۱): اگر لڑکے کی بیوی کا بوسہ لیتے وقت اس شخص کو شہوت نہ تھی اور دل میں بھی شہوت کا خیال نہ تھا تو یہ عورت اپنے شوہر پر حرام نہیں ہوئی، لیکن اگر یہ بوسہ شہوت سے لیا گیا تو یہ عورت اپنے شوہر پر حرام ہوگئی۔ اگر یہ شخص قسم کے ساتھ کہہ دے کہ شہوت نہ تھی تو اس کا اعتبار کر لیا جائے گا۔[2] سوال بہشتی زیور حصہ چہارم صفحہ (۵) پر مسئلہ: رات کو اپنی بی بی کے جگانے کے لیے اُٹھا، مگر غلطی سے لڑکی پر ہاتھ پڑ گیا یا ساس پر ہاتھ پڑ گیا اور بی بی سمجھ کر جوانی کی خواہش کے ساتھ اس کو ہاتھ لگایا تو اب وہ مرد اپنی بی بی [1] کفایت المفتی (۵/ ۱۸۱۔ ۱۸۲، باب حرمتِ مصاہرت) [2] کفایت المفتی (۵/ ۱۸۹)