کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 328
اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی عورت کو اس کا خاوند نہ چھوڑتا ہو اور وہ اس کے ہاتھ سے تنگ ہو تو وہ خاوند کے بیٹے سے زنا کروالے، تاکہ وہ خاوند پر حرام ہو جائے، کیوں کہ فقہ حنفی میں حرام کاری سے بھی رشتۂ مصاہرت قائم ہوجاتا ہے۔[1] اس حیلے کی بھی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ قرآن و حدیث میں بیان کردہ حقِ خلع علمائے احناف کو تسلیم نہیں، ورنہ اس قسم کی صورتوں میں عورت عدالت سے خلع کے ذریعے سے ناپسندیدہ یا ظالم شوہر سے نجات حاصل کر سکتی ہے۔ ھَدَاھُمُ اللّٰہُ تَعَالیٰ۔ ہمارے نزدیک یہ حیلہ بھی بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔ حرام کام کے کرنے سے کوئی حلال حرام نہیں ہوسکتا۔ میاں بیوی کا تعلق حلال ہے۔ بیوی اگر خاوند کے بیٹے سے اپنا منہ کالا کروائے گی تو زناکاری جیسے جرمِ کبیرہ کی مرتکب ہوگی، لیکن اس سے وہ اپنے میاں کے لیے حرام نہیں ہوگی، حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( لَایُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَال )) [2] ’’حرام کام حلال کو حرام نہیں کرے گا۔‘‘ اس لیے اسلم و احوط راستہ عورت کے لیے حقِ خلع کا تسلیم کرنا ہے، اس حقِ شرعی کو ماننے کے بعد نہ تفویضِ طلاق کے کھکھیڑ میں پڑھنے کی ضرورت باقی رہتی ہے اور نہ اپنے سوتیلے بیٹے سے منہ کالا کرانے کی۔ اس کے بغیرہی عورت خاوند سے نجات حاصل کرنا چاہے تو کر سکتی ہے، شریعت نے جب کئی معقول طریقے تجویز کیے ہوئے ہیں تو ان کو چھوڑ کر اپنے خو ساختہ غیر معقول تجاویز پر اصرار کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ [1] شرح بخاری، از مولانا داود راز دہلوی رحمہ اللہ (۸/ ۲۶۶) طبع مکتبہ قدوسیہ لاہور [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۰۱۵، مزید ملاحظہ ہو: إرواء الغلیل، للألباني (۶/ ۲۸۷) نیز دیکھیں: تفسیر أحسن البیان، النساء: آیت: ۲۳ کا حاشیہ)