کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 324
یکسر مختلف معاملہ ہے، جس کا جواز ان آثار سے کشید کیا جا رہا ہے، کیوں کہ ’’أَمْرُکِ بِیَدِکِ‘‘ کی صورت یا تو توکیل کی بنتی ہے کہ مرد کسی اور کو وکیل بنانے کے بجائے عورت ہی کو وکیل بنا دیتا ہے یا یہ کنائی صورت ہے، کیوں کہ اس میں فیصلہ کن رائے خاوند ہی کی ہوگی کہ اگر عورت نے علاحدگی پسند کر لی ہے تو یہ کون سی طلاق شمار ہوگی: رجعی یا بائنہ، ایک یا تین؟ ایک رجعی شمار کرنے کی صورت میں خاوند کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ اس سے زیرِ بحث تفویضِ طلاق کا اثبات کرنے والوں سے ہمارے چند سوال ہیں: 1 تفویضِ طلاق والی عورت اگر خاوند کو طلاق دے دیتی ہے تو کیا اس میں خاوند کی نیت کا اعتبار ہو گا یا نہیں؟ 2 اگر خاوند کہے کہ میری مراد اس تفویضِ طلاق سے ایک طلاقِ رجعی تھی تو کیا خاوند کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہو گا؟ 3 اور اگر رجوع کا حق حاصل ہو گا تو پھر تفویضِ طلاق کی شق ہی بے معنی ہوجاتی ہے، کیوں کہ جو عورت بھی اس حق کو استعمال کرتے ہوئے خاوند کو طلاق دے گی تو خاوند رجوع کر لیا کرے گا۔ (کم از کم دو مرتبہ تو رجوع کا حق اسے حاصل رہے گا) 4 اگر تفویضِ طلاق میں طلاقِ بائنہ ہوگی تو پھر یہ صورت ’’أَمْرُکِ بِیَدِکِ‘‘ میں کس طرح آسکتی ہے، جس کو اس کے جواز میں دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے؟ جب کہ ’’أَمْرُکِ بِیَدِکِ‘‘ کی صورت میں طلاقِ بائنہ نہیں ہوگی، جیسا کہ آثار سے واضح ہے۔