کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 320
کے سپرد یہ کام کر دے تو وہ طلاق خاوند ہی کی طرف سے تسلیم کی جائے گی۔ مذکورہ اثر میں یہی دو صورتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک صورت خیارِ طلاق کی سی ہے، بلکہ یہ طلاق بالکنایہ ہے اور دوسری توکیلِ طلاق کی۔ اس اثر سے زیرِ بحث تفویضِ طلاق کا اثبات ہر گز نہیں ہوتا۔ دوسرا اثر، جس سے استدلال کیا گیا ہے، حسبِ ذیل ہے: ’’سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس وفد میں ابو الحلال العسکی رحمہ اللہ آئے، تو کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اس کا اختیار دے دیا ہے؟ انھوں نے فرمایا: ’’فأمرھا بیدھا‘‘ پس اس عورت کا اختیار اس کے پاس ہی ہے۔‘‘[1] اس میں بھی وہی خیارِ طلاق بلکہ طلاق بالکنایہ کا اثبات ہے، جس سے کسی کو اختلاف نہیں، یعنی لڑائی جھگڑے کی صورت میں عورت کو علاحدگی کا اختیار کنائے کی صورت میں دے دینا، اس اثر کا بھی تفویضِ طلاق کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تیسرا اثر، جس سے استدلال کیا گیا ہے، حسبِ ذیل ہے: ’’سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا، جس نے اپنی بیوی کو اس کا اختیار دے دیا تو انھوں نے فرمایا: ’’القضاء ما قضت فإن تناکرا حلف‘‘ وہ عورت جو فیصلہ کرے گی، وہی فیصلہ ہے، پھر اگر وہ دونوں ایک دوسرے کا انکار کریں تو مرد کو قسم دی جائے گی۔‘‘[2] [1] مصنف ابن أبي شیبۃ (۵/ ۵۶) رقم الحدیث (۱۸۰۷۱) [2] مصنف ابن أبي شیبۃ (۹/ ۵۸۱) رقم الحدیث (۱۸۳۸۸)