کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 316
اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ طلاق و خلع کے احکام، حدود اﷲ کی حیثیت رکھتے ہیں، ان میں تبدیلی کرنا، یعنی عورت کو حقِ خلع کے بجائے، جو اسے اﷲ نے دیا ہے، طلاق کا حق تفویض کر دینا، حدود اﷲ میں تجاوز کرنا ہے، جس کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ یہ سراسر ظلم ہے، جو اﷲ کو ناپسند ہے۔ چناں چہ آیتِ مذکورہ: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ} کے تحت مولانا عبدالماجد دریا آبادی مرحوم نے لکھا ہے اور کیا خوب لکھا ہے: ’’یہ تاکید ہے اس امر کی کہ احکامِ شرعی میں کسی خفیف جزئیہ کو بھی ناقابلِ التفات نہ سمجھا جائے اور شریعت جیسے بے انتہا منظم فن میں ہونا بھی یہی چاہیے تھا۔ مشین جتنی نازک اور اعلیٰ صَنَّاعی کا نمونہ ہوگی، اسی قدر اس کا ایک ایک تنہا پرزہ بھی اپنی جگہ پر بے بدل ہوگا۔‘‘[1] بنا بریں عورت کو طلاق کا حق تفویض کرنا، امرِ باطل ہے، اس سے حکمِ شریعت میں تبدیلی لازم آتی ہے۔ مرد کا جو حق ہے، وہ عورت کو مل جاتا ہے اور عورت جو مرد کی محکوم ہے، وہ حاکم (قوام) بن جاتی ہے اور مرد اپنی قوامیت کو (جو اﷲ نے اسے عطا کی ہے) چھوڑ کر محکومیت کے درجے میں آجاتا ہے، یا بالفاظِ دیگر عورت طلاق کی مالک بن کر مرد بن جاتی ہے اور مرد عورت بن جاتا ہے کہ بیوی اگر اسے طلاق دے دے تو وہ سوائے اپنی بے بسی اور بے چارگی پہ رونے کے کچھ نہیں کر سکتا۔ تلک إذاً قسمۃ ضیزیٰ۔ چند شبہات و اشکالات کا ازالہ: 1 بعض علما آیتِ تخییر سے تفویضِ طلاق کا جواز ثابت کرتے ہیں، حالانکہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ [1] تفسیر ماجدی (۱/ ۹۲) طبع تاج کمپنی