کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 310
علمائے احناف کا فقہی جمود۔۔۔ خلع کا انکار لیکن بدقسمتی سے قرآن و حدیث کے مقابلے میں آراء الرجال کو زیادہ اہمیت دینے والے علما و فقہا، اسلام کے اس قانونِ خلع کو تسلیم نہیں کرتے، اس لیے فقہ حنفی میں مذکورہ صورتوں میں سے کسی بھی صورت میں عورت کے لیے مرد سے گلوخلاصی حاصل کرنے کا جواز نہیں ہے، اس کا اعتراف مولانا تقی عثمانی صاحب (دیوبندی) نے بھی کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب: ’’الحیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزۃ‘‘ کے نئے اِڈیشن (ادارۂ اسلامیات) کا پیش لفظ، از مولانا تقی عثمانی)۔ مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم نے بھی مذکورہ کتاب اسی لیے تحریر فرمائی تھی کہ عورتوں کی مشکلات کا کوئی حل، جو فقہ حنفی میں نہیں ہے، تلاش کیا جائے، چناں چہ انھوں نے کچھ فقہی جمود توڑتے ہوئے دوسری فقہوں کے بعض مسائل کو اختیار کر کے بعض حل پیش فرمائے اور دیگر علمائے احناف کی تصدیقات بھی حاصل کیں۔ اس کے باوجود علمائے احناف کا جمود برقرار ہے کہ جب تک خاوند کی رضا مندی حاصل نہ ہو، عورت کے لیے علاحدگی کی کوئی صورت نہیں۔[1] حالاں کہ عورت کو حقِ خلع دیا ہی اس لیے گیا ہے کہ خاوند راضی ہو یا راضی نہ ہو، عورت عدالت یا پنچایت کے ذریعے سے علاحدگی اختیار کر سکتی ہے اور عدالت کا فیصلہ طلاق کے قائم مقام ہوجائے گا۔ [1] دیکھیے: درس ترمذی از مولانا تقی عثمانی (۳/ ۴۹۷)