کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 31
في تحلیل الحلال وتحریم الحرام‘‘[1] ’’معلوم ہونا چاہیے کہ اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سنتِ مطہرہ تشریعِ احکام میں مستقل حیثیت کی حامل ہے اور کسی چیز کو حلال قرار دینے یا حرام کرنے میں اس کا درجہ قرآن کریم ہی کی طرح ہے۔‘‘ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’إن ثبوت حجیۃ السنۃ المطھرۃ واستقلالھا بتشریع الأحکام ضرورۃ دینیۃ، ولا یخالف في ذلک إلا من لا حظّ لہ في دین الإسلام‘‘[2] ’’سنتِ مطہرہ کی حجیت کا ثبوت اور تشریعِ احکام میں اس کی مستقل حیثیت ایک اہم دینی ضرورت ہے اور اس کا مخالف وہی شخص ہے، جس کا دینِ اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘ سنت کا مستقل حجتِ شرعی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث سے جو حکم ثابت ہو، وہ مسلمان کے لیے قابلِ اطاعت ہے، چاہے اس کی صراحت قرآن میں ہو یا نہ ہو۔ آپ کے صرف وہی فرمودات قابلِ اطاعت نہیں ہوں گے، جن کی صراحت قرآن کریم میں آگئی ہے، جیسا کہ گمراہ فرقوں نے پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی بہ بانگِ دہل کہہ رہے ہیں۔ نام قرآن کی عظمت کا ہے، لیکن قرآن کے حکم: {مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ} [النساء: ۸۰] کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا رویہ ’’کلمۃ حق أرید بھا الباطل‘‘ کا مصداق اور آئینہ دار ہے۔ ایسے لوگوں نے ایک حدیث بھی گھڑ رکھی ہے: [1] إرشاد الفحول (ص: ۳۳( [2] إرشاد الفحول (ص: ۳۳(