کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 305
بیوی کو مطمئن کرنے یا اُسے طلاق دینے کا پابند ہوگا، ورنہ طلاق از خود واقع ہوجائے گی۔‘‘[1] بے بنیاد اور شریعت سازی ہے، کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے خود ہی اس قسم کی صورتوں میں عورت کو مرد کے حقِ طلاق کے مقابلے میں خلع کا حق عطا کیا ہے، جس کے ذریعے سے وہ خاوند سے طلاق کا مطالبہ کر کے طلاق لے سکتی ہے۔ خاوند اس کا یہ جائز مطالبہ تسلیم نہ کرے تو عدالت یا پنچایت یہ نکاح فسخ کر کے عورت کو اس سے آزاد کر دے گی۔ اس کو خلع کہتے ہیں اور خلع کا یہ حق شریعتِ اسلامیہ نے عورت کو دیا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے حل کی نہ ضرورت ہے اور نہ اس کی اجازت ہی ہے۔ حقِ خلع اور اس کے شرعی دلائل: لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے نکاح فارم میں بھی تفویضِ طلاق کی شق شامل ہے اور اکثر علما بھی اس کے جواز کے قائل ہیں، حتی کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس کا جواز تسلیم کر لیا ہے۔ نیز عورت کے حقِ خلع کا بھی انکار کیا ہے۔[2] جب کہ نکاح نامے میں تفویضِ طلاق کی یہ شق شریعتِ اسلامیہ کے خلاف ہے۔ اس لیے اب یہ موضوع زیرِ بحث آہی گیا ہے تو ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ قدرے تفصیل سے اس پر روشنی ڈالیں اور شرعی دلائل سے اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کریں۔ یہ دلائل حسبِ ذیل ہیں: اسلام میں طلاق کا حق صرف مرد کو دیا گیا ہے، عورت کو نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں زود رنج، زود مشتعل اور جلدبازی میں جلد [1] ’’الشریعہ‘‘ (ص: ۱۸۶) [2] روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ لاہور، روزنامہ ’’آواز‘‘ لاہور (۲۸؍ مئی ۲۰۱۵ء)