کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 301
لکھتے ہیں: ’’البتہ عملی مشکلات و مسائل کے تناظر میں خواتین کو بعض شرائط کے ساتھ محدود دائرے میں شوہر کے ساتھ حقِ طلاق میں شریک کرنے کی گنجائش فقہا کے ہاں ہمیشہ تسلیم کی گئی ہے۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے اپنا یہ موقف قدرے تفصیل سے پیش کیا ہے: ’’عورت نکاح کے وقت طلاق کا حق مانگ سکتی ہے، لیکن عام حالات میں یہ خاوند کی رضا مندی سے مشروط ہے کہ وہ بیوی کو حقِ طلاق تفویض کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ قانون اس کو پابند نہیں کرتا۔‘‘ اس کے بعد وہ مزید آگے بڑھتے ہوئے ایسے قانون بنانے کی بھی حمایت کرتے ہیں کہ جس کی رُو سے ’’ہر نکاح کے موقع پر خاوند اپنا حقِ طلاق ان ان شرائط کے ساتھ بیوی کو دے دے تو میرے نزدیک فقہی طور پر اس کی گنجایش موجود ہے۔‘‘ مزید فرماتے ہیں: ’’مثال کے طور پر یہ شرط لگائی جا سکتی ہے کہ بیوی اگر کسی موقع پر یہ مطالبہ کرے کہ مجھے طلاق چاہیے اور بیوی کا باپ یا سرپرست یا خاندان کا کوئی دوسرا ذمے دار آدمی اس مطالبے کی توثیق کر دے کہ ہاں اس کا مطالبہ بجا ہے تو پھر خاوند پابند ہوگا۔‘‘[1] ہماری گزارشات: اس سلسلے میں ہماری گزارشات حسبِ ذیل ہیں: 1 یہ ساری دراز نفسی اس مفروضے پر قائم ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا صرف مرد کو حقِ طلاق دیتے وقت، اس کے علمِ کامل و محیط میں یہ بات نہیں آسکی کہ [1] ’’الشریعہ‘‘ (ص: ۱۸۶)