کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 290
یا ؎ کند ہم جنس با ہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز با باز لیکن کیا علمائے اسلام کے لیے انکارِ حدیث پر مبنی یہ ’’دلیل‘‘ قابلِ قبول ہو سکتی ہے؟ یا خود امام رازی کو اس ’’دلیل‘‘ سے اتفاق ہو سکتا ہے؟ اس ’’دلیل‘‘ کی رو سے تو حدِ رجم کا انکار بھی صحیح ہے، جیسا کہ غامدی و فراہی گروہ کر رہا ہے، لیکن کیا امام رازی نے بھی ’’عمومِ قرآن‘‘ والی ’’دلیل‘‘ سے حدِ رجم کا انکار کیا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ وہ {اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ} کا حکم عام ہونے کے باوجود، حدیثِ رسول کی وجہ سے اس حکم کو صرف کنوارے زانی کے لیے خاص مانتے ہیں اور اس میں شادی شدہ زانی کو شامل نہیں سمجھتے، بلکہ اس کے لیے رجم کا اثبات کرتے ہیں، جیسا کہ علمائے اسلام کا موقف ہے۔ علاوہ ازیں حدِ رجم کا انکار کرنے والوں میں صرف خوارج کا ذکر کیا ہے۔ نیز ان کے دلائل ذکر کر کے ان کے نہایت معقول جواب دیے ہیں۔ خارجیوں کے یہ دلائل وہی ہیں، جو آج کل سارے منکرینِ حدیث اور فراہی گروہ پیش کر رہا ہے۔ ذرا امام رازی کے بیان کردہ چند خارجی دلائل اور امام رازی کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔ حدِ رجم کے انکار کے لیے خوارج کی دلیل: ’’{اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا} [النور] کا اقتضا یہ ہے کہ ہر قسم کے زانیوں کے لیے کوڑوں کی سزا واجب ہو اور خبرِ واحد سے بعض کے لیے حدِ رجم کو واجب ٹھہرانا، اس سے کتاب اﷲ کے عموم کی تخصیص لازم آتی ہے اور خبرِ واحد سے کتاب اﷲ کی تخصیص جائز نہیں ہے، اس لیے کہ کتاب اﷲ اپنے متن میں قاطع ہے، جب کہ خبرِ واحد