کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 287
جیسے آج کل یا ماضی قریب و بعید میں جن لوگوں نے حدِ رجم کا یا اور بعض دینی مُسلّمات کا انکار کیا ہے، ایسے منحرفین اور ضالّین و مضلین کے اختلاف یا انکار سے نہ اجماع کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے اور نہ مسلّماتِ اسلامیہ سے انحراف کا جواز ثابت ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس پر صرف فقہا و اہلِ علم ہی کا اتفاق نہیں ہے کہ جن سے اختلاف کی کوئی گنجایش ہو، بلکہ مرد و عورت کی دیت میں فرق پر اجماعِ صحابہ ہے، جس سے انکار یا انحراف کی قطعاً گنجایش نہیں ہے۔ اجماعِ صحابہ سے انکار کفر کے مترادف ہے۔ کشاف القناع اور تفسیر کبیر کے حوالوں کی حقیقت: عزیز موصوف نے مذکورہ اقتباس میں فقہ حنبلی کی کتاب کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس میں دعوائے اجماع کی تردید کی گئی ہے۔ قارئین مذکورہ کتاب کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ فرمائیں کہ اس میں صرف اختلاف کا ذکر ہے یا اجماع کی تردید؟ ’’(ودیۃ المرأۃ) مسلمۃ کانت أو کافرۃ (نصف دیۃ رجل من أھل دیتھا) حکاہ ابن المنذر، رواہ ابن عبد البر إجماعاً لما رویٰ عمرو بن حزم (أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔قال في کتابہ: دیۃ المرأۃ نصف دیۃ الرجل) لکن حُکي عن ابن علیۃ والأصم: إن دیتھا کدیۃ الرجل ۔۔۔‘‘[1] یہ دو شخص جیسے کچھ ہیں، ان کی وضاحت کی جا چکی ہے، ان کی شاذ رائے کے ذکر سے اجماع کی تردید نہیں ہوتی، نہ اس قسم کے لوگوں کے اختلاف سے اجماع کی حیثیت ہی متأثر ہوتی ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے، جیسے عصرِ [1] کشاف القناع (۶/ ۲۰، دار الکتب العلمیۃ)