کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 282
مزید دو بے بنیاد دعوے یا اتہام: عمار صاحب کے اگلے دو پیرے ملاحظہ ہوں، ان میں مزید دو بے بنیاد دعوے کیے گئے ہیں: ’’’2 ۔قرآن مجید نے دیت کے معاملے میں ’’معروف‘‘ کی پیروی کا حکم دیا ہے، جس سے مراد ہر معاشرے کا اپنا معروف ہے۔ 3 ۔صحابۂ کرام نے اپنے دور کے عرف کے مطابق مرد و عورت کی دیت میں فرق کیا، جو قرآن کی ہدایت کے مطابق درست تھا۔ تاہم اس عرف کی پیروی ہر دور اور ہر معاشرے میں ازروئے شریعت لازم نہیں۔ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے، جس میں مختلف معاشرے مختلف قانون سازی کر سکتے ہیں۔‘‘[1] یہ دونوں پیرے، ہمارے نزدیک، ہلکے سے ہلکے الفاظ میں جسارتِ غیر مومنانہ کے مظہر ہیں۔ قرآن مجید میں دیت کے معاملے میں معروف کی پیروی کا حکم کہاں ہے؟ قرآن کی کس سورت یا کس آیت میں ہے؟ اس کی نشاندہی کی جائے۔ ہمارے ذہن اور حافظے کی رسائی وہاں تک نہیں ہوسکی۔ اگر موصوف ہمارا یہ ذہول اور نسیان دور کر سکیں تو ہم اس پر ضرور غور کریں گے۔ إن شاء اﷲ، بلکہ اپنی کوتاہ بینی پر معذرت بھی۔ 2 صحابۂ کرام کا بھی مرد و عورت کی دیت میں فرق کرنے کو اس قرآنی ہدایت کے مطابق بتلایا گیا ہے۔ ہم یہاں پھر یہ عرض کریں گے کہ اب ایک کی جگہ ہمارے دو سوال ہوگئے ہیں۔ ایک تو قرآن کے اس حکم کی وضاحت کہ وہ کہاں ہے؟ اور دوسرا یہ کہ صحابہ نے جو فرق کیا، اس کی بنیاد قرآن کا یہی حکم [1] ’’الشریعہ‘‘ (ص: ۱۸۰)