کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 280
مما ذکروہ، وھما في کتاب واحد، فیکون ما ذکرنا مفسراً لما ذکروہ مخصصا لہ، ودیۃ نساء کل أھل دین علی النصف من دیۃ رجالھم‘‘[1] ’’الموسوعۃ الفقھیۃ‘‘ (کویتی) میں ہے: ’’وذھب الفقھاء إلی أن دیۃ الأنثیٰ الحرۃ المسلمۃ ھي نصف دیۃ الذکر الحر المسلم، ھٰکذا روي عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم وعن عمر و علي وابن مسعود وزید بن ثابت رضی اللّٰه عنہم ۔ قال ابن المنذر وابن عبد البر: أجمع أھل العلم علیٰ أن دیۃ المرأۃ نصف دیۃ الرجل، مما روی معاذ عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال: ’’دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل‘‘ ولأنھا في الشھادۃ والمیراث علی النصف من الرجل فکذلک في الدیۃ‘‘[2] اہلِ علم کا اجماع یا فقہا کا یہ اتفاق قدیم و جدید مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبی، التفسیر المنیر وغیرہ۔ اجماعِ صحابہ: عورت کی نصف دیت کی بابت فقہا کے اتفاق کا ذکر کیا گیا ہے، ممکن ہے عمار صاحب، جن کی اڑان بہت اونچی ہے، ’’ھُم رجالٌ ونحن رجالٌ‘‘ کا نعرۂ مستانہ لگا کر فقہا کی متفقہ رائے کے مقابلے میں اپنی اور اپنے استاذ کی رائے کو زیادہ اہمیت دیں، کیوں کہ یہ تنہا روی (سولو فلائٹ) اس گروہ کو نہ صرف پسند ہے، بلکہ اس پر فخر کرنا ان کا شیوہ ہے۔ اس لیے ہم عرض کریں گے کہ اس پر [1] المغني (۸/ ۳۱۴، طبع ۱۹۸۴ء) [2] الموسوعۃ الفقھیۃ (۲۱/ ۵۹۔ ۶۰ طبع ۲۰۰۳ء)