کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 277
عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہوجائے گی۔ سیدنا عمرو بن حزم کی روایت کے الفاظ ہیں: (( دِیَۃُ الْمَرْأَۃِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ دِیَۃِ الرَّجُلِ )) [1] ’’عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے۔‘‘ شیخ البانی نے ان کے شواہد، جو صحیح سند سے ثابت ہیں، ذکر کیے ہیں۔ ایک شاہد ذکر کر کے ’’فدیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل‘‘ کہتے ہیں: ’’قلت: وإسنادہ صحیح‘‘ پھر فرماتے ہیں: اس باب میں سیدنا علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی مرویات بھی ہیں، جو ’’مصنف ابن أبي شیبۃ‘‘ (۱۱/ ۲۸/۲) اور ’’سنن البیھقي‘‘ (۸/ ۹۵۔ ۹۶) میں ہیں اور دونوں کی سندیں صحیح ہیں۔[2] بنا بریں موصوف کا پہلا دعویٰ درست نہیں۔ احادیث و آثار سے یہ فرق ثابت ہے۔ چناں چہ ’’الفقہ الإسلامي وأدلتہ‘‘ کے فاضل مولف ڈاکٹر وہبہ زُحیلی (شام) لکھتے ہیں: ’’اتفق الفقھاء ۔ماعدا النادر۔ علیٰ أن دیۃ المرأۃ نصف دیۃ الرجل، عملاً بأحادیث وآثار و بالمعقول۔ أما الأحادیث: فمنھا قولہ علیہ السلام مرفوعاً عن معاذ (( دیۃ المرأۃ نصف دیۃ الرجل )) وروي موقوفاً عن علي (( عقل المرأۃ علی النصف من عقل الرجل في النفس وفیما دونھا )) والآثار فیھا کثیرۃ مرویۃ عن عمر و علي و عثمان و ابن عباس وابن عمر و زید بن ثابت}۔ فکان ھناک إجماع [1] إرواء الغلیل (۷/ ۳۰۶) [2] إرواء الغلیل (۷/ ۳۰۶۔ ۳۰۷)