کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 272
علمی و فقہی مسائل میں اجماع کی حیثیت اس عنوان کے تحت عمار صاحب نے اجماع کے بارے میں اپنے موقف کی وضاحت کی ہے۔ ہم اس بحث پر زیادہ گفتگو ضروری نہیں سمجھتے، کیوں کہ انھوں نے عنوان میں اجماع کو ’’علمی و فقہی‘‘ مسائل تک محدود رکھا ہے اور ان مسائل میں واقعی اجماع کے دعوے بڑے کیے گئے ہیں اور کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان پر اجماع کا دعویٰ بالعموم صحیح نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک اصل اور حقیقی اجماع صحابۂ کرام کا اجماع ہے، جس سے انحراف {وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَ سَآئَ تْ مَصِیْرًا} [النساء: ۱۱۵] ’’اور مومنوں کے راستے کے سوا (کسی اور) کی پیروی کرے، ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے، جس طرف وہ پھرے گا اور ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بری لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘ کے مصداق کفر ہے۔ اس کی مثال منکرینِ زکات سے قتال، شادی شدہ زانی کے لیے حدِ رجم، نزولِ مسیح علیہ السلام اور حدِ رجم کے اثبات کے لیے چار عینی گواہوں کے ضروری ہونے پر اجماع ہے۔ یہ اجماع ایک تو واضح نصوص پر مبنی ہیں اور سوائے پہلے اجماع کے ان میں اجتہاد کا کوئی دخل نہیں اور پہلے اجماع (منکرینِ زکات سے قتال) پر ابوبکر صدیق کی رائے اجتہاد پر مبنی ہے اور ان کا یہ اجتہاد حمل النظیر علی النظیر کی بہترین مثال ہے۔ اس انکارِ زکات کو انھوں نے انکارِ صلات پر قیاس کر کے