کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 268
بعد لکھتے ہیں: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء، ان کی حیات اور پھر نزول من السماء قرآنِ کریم سے ثابت ہے، ہم بنظر اختصار قرآنِ کریم سے صرف دو ہی دلیلیں عرض کرتے ہیں اور پھر ان کی معتبر اور مستند حضرات مفسرین کرام سے باحوالہ تفسیریں نقل کرتے ہیں، غور و فکر کرنا قارئین کا کام ہے۔ دو آیتیں وہیں ہیں جن کو ہم نے سابقاً ذکر کر دیا ہے۔‘‘ امام اہلِ سنت رحمہ اللہ دو آیتوں کی تفسیر لکھنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’پہلی آیتِ کریمہ اور اس میں نقل کردہ تفاسیر کی طرح اس دوسری آیتِ کریمہ اور اس کی تفسیر میں نقل کردہ ٹھوس اور مضبوط حوالوں سے یہ بات بالکل عیاں ہوگئی ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا رفع الی السماء، ان کی حیات اور قیامت سے پہلے ان کا زمین پر نازل ہونا نصوصِ قطعیہ قرآنی آیات سے ثابت ہے، جس کا انکار کافر ملحد اور زندیق کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔ باطل پرستوں پر براہینِ قاطعہ اور ادلہ ساطعہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی اَنا اور ضد پر قائم رہتے ہیں، بھلا شیطان کی ہدایت کس کے بس میں ہے۔ بدلنا ہے تو مے بدلو، طریق مے کشی بدلو وگرنہ ساغر و مینا بدل جانے سے کیا ہوگا‘‘ (ایضاً، ص: ۴۷۔ ۴۸) نیز امام اہلِ سنت رحمہ اللہ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر دس حدیثیں بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں: