کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 254
ہے تو محدثین کو احادیث کی جمع و تدوین کے لیے اتنی محنت کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ انھوں نے تو سارے دینی احکام و عقائد کو، جو احادیث کو فقہی ابواب پر مرتب کر کے انھوں نے ثابت کیا ہے، ان کی بنیاد یہی احادیث ہیں، جن کو وہ سنن سے بھی تعبیر کرتے ہیں اور ان مجموعہ ہائے ذخیرہ حدیث کا انھوں نے نام ہی سنن ابی داود، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن ترمذی وغیرہ رکھا ہے۔ ان میں ۹۹ فی صد احادیث اخبارِ آحاد ہیں۔ اگر یہ سارا ذخیرۂ آحاد ناقابلِ اعتبار ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب دین صرف اس صحیفۂ غامدی کے اندر محصور ہے، جس کی وحی کا مہبط غامدی صاحب کا نہاں خانۂ قلب ہے اور اس میں صرف ۲۷ سنتیں ہیں، باقی اﷲ اﷲ، خیر صلّا۔ 7 عمار صاحب فرماتے ہیں: ’’یہ علمی اختلاف ہے، اس پر دلائل کی روشنی میں بحث کرنے کی ضرورت ہے اور اس مسئلے کو ایمانیات کے بجائے احادیث کے حوالے سے بحث و تحقیق کے دائرے میں ہی رکھنا چاہیے۔‘‘ اس میں پہلا سوال یہ ہے کہ اگر یہ ایمانیات کا مسئلہ نہیں ہے تو آپ نے اسے پہلے ایمان بالرسالت کا تقاضا کیوں قرار دیا؟ جو عقیدہ اس اہمیت کا حامل ہو کہ وہ ایمان بالرسالت کا تقاضا ہو، وہ ایمانیات میں داخل کیوں نہیں؟ علاوہ ازیں جن احادیث کی صحت چودہ سو سال سے مسلّم چلی آرہی ہے، ان سب میں بھی آپ کے نزدیک بحث و تحقیق کی ضرورت ہے تو یہ علمی اختلاف ہے کہ مسلّماتِ اسلامیہ کا انکار ہے؟ محترم! یہ علمی اختلاف نہیں۔ علمی اختلاف تو وہ ہوتا ہے، جس میں اختلاف کرنے والے کے پاس بھی کچھ دلائل ہوں یا ایک فریق کے مقابلے میں دوسرے فریق کے پاس اس کے دلائل سے بڑھ کر مضبوط دلائل ہوں۔ اس کے لیے تو