کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 252
ایمانیات کے بجائے احادیث کے حوالے سے بحث و تحقیق کے دائرے میں ہی رکھنا چاہیے۔‘‘[1] عزیز موصوف کے اس اقتباس یا پیرے میں چند نکات قابلِ غور ہیں، ہم بالترتیب ان پر روشنی ڈالیں گے۔ وبید اللّٰه التوفیق۔ 1 ان روایات کو آحاد قرار دینے والے ’’محققین‘‘ کون ہیں؟ 2 کیا اخبارِ آحاد کے ذریعے سے معلوم ہونے والے امور میں واقعی اشتباہ ہوتا ہے اور وہ قطعی نہیں ہوتے؟ 3 بعض آثارِ صحابہ کے حوالے سے جو کہا گیا ہے کہ وہ اسے قطعی الثبوت اور متواتر روایات کے طور پر نہیں جانتے تھے، یہ صحابہ کون ہیں اور محولہ آثار کہاں درج ہیں؟ 4 جب آپ کے پہلے پیرے (اقتباس نمبر 1) میں ان روایات کو قابلِ اعتماد قرار دیا گیا تھا، کیا اس وقت یہ اخبارِ آحاد نہیں تھیں اور ’’محققین‘‘ کے فیصلے کا آپ کو علم نہیں تھا؟ کیا یہ انکشاف آپ پر بعد میں ہوا، کیوں کہ یہ دونوں باتیں باہم متضاد اور ایک دوسرے کے منافی ہیں؟ اگر قابلِ اعتماد ہیں تو ان میں اشتباہ کا امکان تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور اگر ان میں اشتباہ کا امکان ہے تو انھیں مستند، قابلِ اعتماد اور ایمان بالرسالت کا تقاضا کیسے مانا جا سکتا ہے؟ ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات ہی صحیح ہوسکتی ہے، بیک وقت دونوں صحیح نہیں ہوسکتیں۔ 5 جن موہوم آثارِ صحابہ کا سہارا لیا گیا ہے، اول تو ہمارے ناقص علم کی حد تک ان کا وجود ہی نہیں ہے اور اگر بالفرض وہ ہیں، جن کا عمار صاحب یا اس [1] ’’الشریعہ‘‘ خصوصی اشاعت (ص: ۱۸۵، جون ۲۰۱۴ء)