کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 244
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ’’اگر ہونے والا بچہ اس اس طرح کا ہوا (اور ہلال بن اُمیہ کے کچھ جسمانی خدوخال بیان فرمائے) تو یہ واقعی (اپنے باپ) ہلال بن اُمیہ کا ہو گا اور اگر اس اس طرح کا ہوا (اور شریک بن سحماء کے کچھ جسمانی خدوخال بیان فرمائے) تو یہ شریک بن سحماء کا ہو گا۔‘‘ جب بچہ پیدا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کے جسمانی خدوخال کا حامل تھا۔ گویا بچے کی پیدایش، اس امر کا واضح قرینہ اور ضمنی شہادت بن گئی کہ عورت انکارِ جرم میں جھوٹی اور ہلال بن اُمیہ الزام لگانے میں سچے ہیں، لیکن اس نہایت واضح دلیل اور ضمنی شہادت کو چار گواہوں کا متبادل قرار نہیں دیا گیا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَوْ کُنْتُ رَاجِمَا أَحََداً بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ لَرَجَمْتُھَا )) [1] ’’اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے رجم کرنے والا ہوتا تو میں اس عورت کو ضرور رجم کر دیتا۔‘‘ حالاں کہ بچے کی ولادت نے سارے معاملے کو کھول دیا تھا اور جھوٹ سچ واضح ہوگیا تھا،ا س کے باوجود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کی سزا کے لیے جو نصابِ شہادت اﷲ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے، اس کو اس کا متبادل قرار نہیں دیا۔ جب ایسا ہے اور نصوص کی اتنی اہمیت ہے تو اس کے مقابلے میں مشکوک ٹیسٹ کی مشکوک رپورٹ کو حتمی، قطعی اور نصابِ شہادت (چار عینی گواہوں) کے قائم مقام کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے؟ یا لعان کے منطقی اور لازمی نتیجے کو ردّ و بدل کی سان پر کس طرح چڑھایا جا سکتا ہے؟ [1] صحیح مسلم، باب اللعان، رقم الحدیث (۱۴۹۶۔ ۱۴۹۷)