کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 239
دائرے میں رہتے ہوئے ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے یہ گروہ آزادانہ اجتہاد کا قائل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ نصوص سے بالا ہو کر احکامِ اسلام کو حالات کے مطابق ڈھالنا اور ان میں اصلاح و ترمیم کرنا، جب کہ علمائے اسلام کے نزدیک شریعتِ اسلامیہ اس ذاتِ باری تعالیٰ کی نازل کردہ ہے، جو ’’مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘ کے علم سے متصف ہے۔ اس لیے اﷲ کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے، جس پر عمل کسی زمانے میں ناممکن ہو جائے یا پیش آنے والے کسی نئے مسئلے کا حل اس میں نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اجتہاد کی ضرورت نہیں ہے۔ بلاشبہہ اجتہاد ناگزیر ہے اور اس کی اہمیت و ضرورت ہر دور میں مسلّم رہی ہے، آج بھی ہے اور آیندہ بھی رہے گی۔ آج کل متعدد اسلامی ملکوں میں ایسی فقہی اکیڈمیاں کام کر رہی ہیں، جن کے پیشِ نظر عصرِ حاضر کے جدید مسائل کا حل اور اُن کے انطباق کا طریقہ ہی زیرِ غور ہے اور اس کے لیے وہ اپنی اجتہادی کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں، لیکن ان علمائے اسلام کے نزدیک اجتہاد کا مطلب، حمل النظیر علی النظیر ہے، جس میں نصوصِ صریحہ سے انحراف نہیں ہوتا، بلکہ انہی سے مستنبط اور انہی کے دائرے میں ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک نصوصِ شریعت کو نظر انداز کر کے مسئلے کے حل کے لیے آزادانہ سعی و کوشش ’’اجتہاد‘‘ نہیں، انحراف ہے۔ راہِ مستقیم نہیں، زیغ و ضلال ہے اور اسلام کی ابدیت و کاملیت کی نفی ہے۔ علاوہ ازیں وہ ’’انفرادی اجتہاد‘‘ کے بجائے ’’اجتماعی اجتہاد‘‘ کے قائل ہیں اور یہی وقت کی شدید ضرورت بھی ہے، جس سے وقت کے چیلنجوں کا مقابلہ ممکن ہے۔ انفرادی اجتہاد سے کسی بھی نئے مسئلے کا حل بالعموم نہیں نکل رہا ہے، بلکہ بعض دفعہ مزید انتشارِ فکر کا باعث بن رہا ہے۔