کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 237
البتہ عام لوگوں کے لیے شریعت کا قانون یہ ہے کہ جو اپنی بیوی کے علاوہ کسی مرد یا عورت پر زنا کا الزام عائد کرتا ہے اور وہ چار گواہ پیش کرنے سے قاصر رہتا ہے تو الزام لگانے والا ایک ہو یا ایک سے زیادہ دو یا تین ہوں (چار پورے نہ ہوں) تو سب قذف کی سزا (اسّی، اسّی کوڑوں) کے مستحق ہوں گے۔ چناں چہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ پر زنا کا الزام لگایا گیا اور الزام لگانے والوں نے چار گواہ بھی پیش کر دیے، لیکن تین گواہوں نے تو گواہی دے دی، چوتھے گواہ نے صراحتاً زناکاری کی گواہی دینے سے انکار کر دیا، صرف یہ کہا: میں نے امرِ قبیح تو ضرور دیکھا، لیکن اصل کام ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ سیدنا عمر نے اﷲ اکبر کہا اور اﷲ کی حمد بیان کی (کہ اﷲ نے سیدنا مغیرہ کو زنا کی سزا سے بچا لیا) اور باقی تینوں گواہوں پر قذف کی حد جاری کی۔[1] لعان کے بعد بچہ صحیح النسب نہیں مانا جائے گا: لعان کے نتیجے میں صرف میاں بیوی کے درمیان ہی جدائی نہیں ہوگی، بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والا بچہ بھی صحیح النسب نہیں مانا جائے گا اور وہ ماں کی طرف منسوب ہوگا۔ اس سلسلے میں عمار صاحب لکھتے ہیں: ’’لعان کا دوسرا قانونی اثر یہ مرتب ہوگا کہ عورت جس بچے کو جنم دے گی، اس کا نسب اس کے شوہر سے ثابت نہیں مانا جائے گا۔ اس آخری نکتے کے حوالے سے دورِ جدید میں یہ اجتہادی بحث شروع ہوگئی ہے کہ اگر جدید طبی ذرائع کی مدد سے بچے کے نسب کی تحقیق ممکن ہو اور عورت یہ مطالبہ کرے کہ اس پر زنا کا الزام جھوٹا ہے، اس لیے سائنسی ذرائع سے تحقیق کرنے کے بعد اگر ثابت ہوجائے کہ بچہ اس کے شوہر [1] إرواء الغلیل (۸/ ۲۸۔ ۲۹) شیخ البانی نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔