کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 234
ڈی۔ این۔ اے ٹیسٹ لعان اور تحقیقِ نسب کے جدید ذرائع اس عنوان کے تحت عمار صاحب نے تحقیقِ نسب کے جدید ذرائع (ڈی، این، اے ٹیسٹ وغیرہ) کو چار گواہوں کے قائم مقام قرار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ بھی دراصل غامدی صاحب ہی کے موقف کی ہم نوائی ہے۔ غامدی صاحب حدِ زنا کے ثبوت کے لیے چار مسلمان گواہوں کی عینی شہادت کو ضروری نہیں سمجھتے، بلکہ ان کے نزدیک بغیر گواہوں کے قرائن سے بھی زنا کا اثبات ہوسکتا ہے۔ قرآن نے ان کے بقول اس کے لیے چار گواہ ضروری قرار نہیں دیے، حالاں کہ قرآن کریم میں تین مقامات پر چار گواہوں کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ایک سورت نساء (آیت: ۱۵) میں۔ دوسرے سورۃ النور (آیت: ۴) میں۔ تیسرے سورۃ النور (آیت: ۱۳) میں۔ ان تینوں آیتوں میں ثبوتِ زنا کے لیے چار عینی گواہوں کے مطالبے کی صراحت ہے۔ چار مسلمان مردوں کی گواہی کے لیے ضروری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بغیر نہ حدِ زنا کا اِثبات ہو سکتا ہے اور نہ نسب کا۔ لیکن غامدی صاحب کی تقلید اور ان کی وکالتِ صفائی میں عمار صاحب نے غامدی ہی کے تال سُر میں یہ راگ اَلاپا ہے: ’’اگر شوہر اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے تو شریعت نے اسے