کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 232
ایک مرتبہ غلطی کر لینے کی وجہ سے نہ پیشہ ور بدمعاش اور چکلے چلانے والے ثابت ہوسکتے ہیں اور نہ اس سے آپ کے خود ساختہ نظریۂ رجم کا اثبات ممکن ہے۔ اس سے کم از کم آپ فوری اظہارِ براء ت کر کے اس ضالّ اور مضلّ گروہ کے دامِ ہم رنگِ زمین سے نکل آئیں تو اس سے آپ کا دنیوی وقار بھی بلند ہو گا اور آخرت میں بھی سرخ روئی آپ کا مقدر ہوگی، بصورتِ دیگر {خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃَ} [الحج: ۱۱] کا مصداق۔ ہماری خواہش، آرزو اور دعا ہے کہ آپ پہلی صورت اختیار کر کے دوسری صورت کے خطرناک انجام سے اپنے آپ کو بچا لیں ؎ من نہ گویم آں مکن ایں کن مصلحت بیں و کارِ آساں کن ایک اور ستم ظریفی: مذکورہ اقتباس میں عمار صاحب نے ایک اور ستم ظریفی یہ کی ہے کہ سورۃ النور کی آیت: {وَلاَ تُکْرِھُوا فَتَیٰتِکُمْ عَلَی الْبِغَآئِ} کا مصداق بھی (نعوذ باللّٰه ) عہدِ رسالت کے اُن مسلمانوں (صحابہ) کو قرار دے دیا ہے، جنھوں نے ان کے زعمِ فاسد میں زنا کاری کے اڈے کھول رکھے تھے اور جن کو وہ غنڈہ، بدمعاش اور قحبہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس آیت سے وہ مزید یہ باور کرا رہے ہیں کہ یہ مسلمان اپنی مملوکہ لونڈیوں سے بھی زنا کاری کروا کے پیسے کماتے تھے۔ یہ گھناؤنا الزام تو آج تک دشمنانِ صحابہ میں سے بھی کسی نے صحابہ پر نہیں لگایا ہوگا۔ کاش! ع کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا منہ بند حالاں کہ اس آیت کا تعلق اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت کے اہلِ عرب سے یا اسلام کے بعد رئیس المنافقین عبداﷲ بن اُبی سے ہے، جو اپنی لونڈیوں