کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 229
پسلی پھڑک اُٹھی نگاہِ انتخاب کی اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت‘‘ جو مولانا مودودی کی محولہ کتاب کا مفصل ردّ ہے۔ فراہی گروہ کا مفروضہ: فراہی گروہ (حمید الدین فراہی، مولانا اصلاحی، جاوید احمد غامدی اور عمار خاں سمیت دیگر ہم نوا و متاثرین) اور دیگر منکرینِ حدیث نے مفروضہ گھڑا کہ اسلام میں زنا کی سزا صرف ایک ہی ہے، سو کوڑے۔ اب مشکل یہ پیش آئی کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کے مجرموں کو رجم کی سزا دی ہے، آپ کے بعد خلفائے راشدین نے بھی دی ہے تو وہ کیا ہے؟ اور کس بنیاد پر دی ہے؟ تو اس کے لیے ایک دوسرا مفروضہ قائم کیا کہ یہ عام زانی کی سزا نہیں ہے، بلکہ پیشہ ور زانیوں، بدمعاشوں اور غنڈوں کے لیے ہے، یعنی یہ سزا زنا کی نہیں، غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی ہے۔ اس کی دلیل کیا ہے؟ تو ایک تیسرا مفروضہ قائم کیا یا ’’دلیل‘‘ تراشی کہ وہ آیتِ محاربہ کے لفظ {اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا} [المائدۃ: ۳۳] میں داخل ہے، حالاں کہ محاربہ کی سزا میں ’’رجم‘‘ کسی طرح بھی نہیں آسکتا۔ یہ قرآنِ کریم کی معنوی تحریف ہے۔ علاوہ ازیں اس گروہ کے بقول رجم کی احادیث ’’آحاد‘‘ ہیں اور قرآن کی ’’عظمت‘‘ کا مفہوم اس گروہ کے نزدیک یہ ہے کہ اخبارِ آحاد سے قرآن کے کسی حکم میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ رجم کا بطورِ حدِ شرعی انکار کی بنیاد بھی ان لوگوں کے زعمِ باطل میں یہی ہے کہ اس کو حد مان لینے سے قرآن کے حکم {فَاجْلِدُوْا} میں اضافہ ہوجاتا ہے، جس کا حق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔