کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 226
پیشہ بنایا ہوا تھا یا یاری آشنائی (چھپی بدکاری) ان کا معمول تھا۔ انہی کو اس غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی وجہ سے رجم کی سزا دی گئی تھی۔ یہ محض زنا کی سزا نہیں تھی، بلکہ یہ محاربہ ہے۔ (اُمتِ مسلمہ کے نزدیک آیتِ محاریہ کا یہ انطباق ایک طرف قرآن کی معنوی تحریف ہے، دوسرے، صحابۂ کرام کے خلاف ژاژخائی اور عہدِ رسالت کے صالح ترین معاشرے کے خلاف ہذیان گوئی ہے۔ نعوذ باللّٰه من ذلک ألف ألف مرۃ) غبار آلود چہرے پر غازہ پاشی: عمار صاحب کے مذکورہ اقتباس اور اس گروہ کی دیگر توضیحات کی روشنی میں جن مولانا صاحب نے عمار صاحب پر صحابۂ کرام پر طعن و تشنیع کا الزام عائد کیا ہے، جو ان کے الفاظ میں پہلے گزر چکا ہے، وہ سوفی صد درست ہے اور سورت نساء کی آیات میں جن گھپلوں یا انحراف کی ہم نے نشان دہی کی ہے، آخری گھپلے سے وہ الزام روزِ روشن کی طرح واضح ہو کر ایک حقیقت ثابتہ بن کر سامنے آجاتا ہے، لیکن اﷲ بچائے ایسی ضد اور انانیت سے کہ گمراہی کے واضح ہوجانے کے باوجود بھی اپنے دھڑے کی حمایت میں غلطی کا ارتکاب جاری رکھا جائے، بلکہ اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اپنے منہ پر مزید کالک مل لی جائے اور اپنے غبار آلود چہرے کو صاف کرنے کے بجائے اسی پر غازہ پاشی کر کے اس کو مزید بدنما بنا لیا جائے۔ عمار صاحب نے بھی اپنے گمراہ کن نظریے کے عارض و رخسار کو سنوارنے کے لیے ایسی ہی بھونڈی کوشش کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: ’’تاہم مولانا محترم نے یہ سامنے کی بات نظر انداز کر دی ہے کہ عہدِ نبوی کے معاشرے نے اخلاقی تزکیہ و تطہیر کے سارے مراحل ایک ہی جست میں طے نہیں کر لیے تھے اور اس معاشرے میں آپ