کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 223
6 ثبوتِ جرم کے لیے چار مسلمان مردوں کی گواہی ضروری ہے۔ دوسری آیت (۱۶) میں تثنیہ مذکر کے صیغے میں اسی {اَلْفَاحِشَۃ} کے مرتکبین کی سزا کا ذکر ہے، کیوں کہ {یَأْتِیَانِھَا} میں ضمیر مونث کا مرجع {اَلْفَاحِشَۃ} ہی ہے۔ اس لیے اس سے مراد زنا کار مرد ہے، اگرچہ بعض نے ان دو سے وہ دو مرد مراد لیے ہیں، جو اغلام بازی (قومِ لوط والی بے حیائی) کرتے ہیں اور بعض نے اس سے باکرہ مرد و عورت مراد لیے ہیں اور پہلی آیت سے محصنات (شادی شدہ عورتیں)۔ لیکن راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے زنا کار مرد مراد ہے۔ تثنیہ کا صیغہ مرد اور عورت کے اعتبار سے ہے اور عربی میں عورت اور مرد دونوں کے لیے تثنیہ مذکر کے صیغے کا استعمال جائز ہے۔ گویا پہلی آیت میں عورت کی سزا کا ذکر ہے کہ ثبوتِ جرم کی صورت میں اس کو گھر میں محبوس رکھو، گھر سے باہر نہ جانے دو، یہاں تک کہ اس کو موت آجائے یا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کسی اور سزا کا حکم نازل ہو جائے اور دوسری آیت میں زنا کار مرد کی سزا کا ذکر ہے کہ اس کو زد و کوب اور زجر و توبیخ کے ذریعے سے اس کی حوصلہ شکنی کرو، کیوں کہ مرد کے لیے محنت اور کسبِ معاش کی سرگرمیوں کے لیے گھر سے نکلنا ناگزیر ہے، اس کو گھر کی چار دیواری کے اندر طویل عرصے تک نہیں رکھا جا سکتا اور حتی {یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا} [النساء: ۱۵] سے واضح ہے کہ مرد و عورت کی یہ دونوں سزائیں عارضی اور عبوری دور کے لیے ہیں، مستقل سزا کے حکم کے بعد یہ دونوں سزائیں ختم اور دوسری نافذ ہوجائیں گی۔ چناں چہ جب اﷲ تعالیٰ نے سورت نور میں زنا کی مستقل سزا نازل فرمائی تو نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھ سے لے لو، مجھ سے لے لو، اﷲ تعالیٰ نے ان کے لیے راستہ بنا