کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 201
گھر کی تولیت سے محروم کر دیا، لیکن اﷲ کے آخری پیغمبر کی تکذیب کے باوجود وہ اﷲ کی رحمت کے مستحق ہیں اور انھیں یہ گھر مل سکتا ہے۔ اپنے ذہنی ’’مقدمات‘‘ سے کتاب اﷲ کی من مانی تفسیر کے نتیجے میں اس طرح کے ’’تضادات‘‘ اور ’’عجائبات‘‘ اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ صرف عمار صاحب ہی نہیں، بلکہ تمام متجددین، اپنی عقل کی بنیاد پر شریعت کے متفقہ مسائل پر از سرِ نو ’’تحقیق‘‘ کرنے والے اور سلف کے فہمِ دین کی تغلیط کرنے والوں کی تحریرات ایسی ’’شاہکار‘‘ ہوتی ہیں۔‘‘[1] اس فاضلانہ تنقید کی دوسری قسط میں ’’آخری گزارش، کرنے کا اصل کام‘‘ کا عنوان قائم کر کے فاضل تنقید نگار لکھتے ہیں: ’’علمی و فکری مسائل پر تحقیق کرنا اور کسی مسئلے کے تمام جوانب و پہلوؤں پر بحث کرنا یقینا ایک مستحسن امر ہے، لیکن کسی بھی علمی و فکری مسئلے پر بحث سے پہلے اپنے گرد و پیش کے ماحول اور خارجی احوال کو پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے اور یہ دیکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ اس ’’تحقیق‘‘ کے اظہار میں نفع و نقصان کا تناسب کیا ہے؟ خصوصاً اُمتِ مسلمہ آج داخلی اعتبار سے تقسیم در تقسیم کا شکار ہے، اس پر مستزاد مغربی دنیا نے عسکری، سیاسی اور فکری و ثقافتی طور پر پوری اُمت پر یلغار کر رکھی ہے۔ ان حالات میں کیا یہ مناسب ہے کہ اُمتِ مسلمہ کے متفقہ مسائل کو ’’تحقیق‘‘ کے نام پر ازسرِ نو چھیڑا جائے؟ اسلاف کے فہمِ دین اور ان پر قائم اعتماد کی اس مبارک فصیل میں دراڑیں ڈالی جائیں اور امت کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر منکرین کو ایک لا یعنی بحث میں [1] ’’الشریعہ‘‘ (ص: ۲۶، ستمبر ۲۰۱۴ء)