کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 194
میں شمار کیا ہے، جو آپ کے ارشاد کے مطابق اس فطرت کا تقاضا ہیں جس پر اﷲ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: (آگے آیت: {لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ} [الروم: ۳۰] اور اس کا ترجمہ ہے) ’’بنی آدم کی قدیم ترین روایت ہے کہ مختلف اقوام و ملل اپنی شناخت کے لیے کچھ علامات مقرر کرتی ہیں۔ یہ علامات ان کے لیے ہمیشہ قابلِ احترام ہوتی ہیں۔ زندہ قومیں اپنی کسی علامت کو ترک کرتی ہیں نہ اس کی اہانت گوارا کرتی ہیں ۔۔۔۔ دین کی بنیاد پر جو ملت وجود میں آتی ہے، اس کی علامات میں سے ایک یہ ڈاڑھی ہے ۔۔۔ ڈاڑھی کی حیثیت بھی (ختنے کی طرح) اس ملت کے شعار کی ہے، چناں چہ کوئی شخص اگر داڑھی نہیں رکھتا تو گویا وہ اپنے عمل سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ وہ ملتِ اسلامی میں شامل نہیں ہے۔ اس زمانے میں کوئی شخص اگر اس ملک کے علَم اور ترانے کو غیر ضروری قرار دے تو ہمارے یہ دانش ور امید نہیں ہے کہ اسے یہاں جینے کی اجازت دینے کے لیے بھی تیار ہوں، لیکن اسے کیا کیجیے کہ دین کے ایک شعار سے بے پروائی اور بعض مواقع پر اس کی اہانت اب لوگوں کا شعار بن چکا ہے۔ ہمیں ان کے مقابلے میں بہرحال اپنے شعار پر قائم رہنا چاہیے۔‘‘[1] اب عمار صاحب کی راگنی ملاحظہ ہو: ’’میری طالب علمانہ رائے میں ڈاڑھی کو ایک امرِ فطرت کے طور پر [1] اشراق (ستمبر ۱۹۸۶ء) بحوالہ ’’الشریعہ‘‘ (جنوری ۲۰۱۵ء)