کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 168
ایک گروہ ضرور حق پر رہے گا، کسی ایک مفسر یا کسی ایک فقیہ کا بھی {أَرْبَعَۃَ رِجَال} میں اختلاف نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ فہم و تفسیر منشائے الٰہی کے مطابق ہے۔ لفظ ’’أربعۃ‘‘ سے کس طرح ’’أَرْبَعَۃُ رِجَال‘‘ مسلّم ہے، اس کے لیے امام شافعی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الام‘‘ سے ایک اقتباس قابلِ ملاحظہ ہے: ’’قَالَ الشَّافِعِيْ فَلَا یَجُوْزُ فِي الزِّنَا الشُّھُوْدُ أَقَلُّ مِنْ أَرْبَعَۃٍ بِحُکْمِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ بِحُکْمِ رَسُوْلِہٖ صلي الله عليه وسلم فَإِذَا لَمْ یَکْمُلُوْا أَرْبَعَۃٌ فَھُمْ قَذَفَۃٌ، وَکَذٰلِکَ حَکَمَ عَلَیْھِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجَلَدَھُمْ جَلْدَ الْقَذَفَۃِ، وَلَمْ أَعْلَمْ بَیْنَ أَحَدٍ لَقِیْتُہٗ بِبَلَدِنَا اخْتِلَافًا فِیْمَا وَصَفْتُ مِنْ أَنَّہٗ لَا یُقْبَلُ فِيْ الزِّنَا أَقَلُّ مِنْ أَرْبَعَۃٍ، وَأَنَّھُمْ إِذَا لَمْ یَکْمُلُوْا أَرْبَعَۃٌ حُدُّوا حَدَّ الْقَذْفِ، وَلَیْسَ ھٰکَذَا شَیْیٌٔ مِّنَ الشَّھَادَاتِ غَیْرَ شُھُوْدِ الزِّنَا‘‘[1] اس اقتباس میں چار دفعہ’’أربعۃ‘‘ کا لفظ آیا ہے اور کہیں بھی اس کی وضاحت لفظِ ’’رجال‘‘ سے نہیں کی، کیوں کہ عدد معدود کے مسلّمہ اصول کی رو سے ’’أربعۃ‘‘ سے مراد ’’أربعۃ رجال‘‘ ہی ہو سکتا ہے، کچھ اور نہیں۔ حدِ زنا کے ثبوت کے لیے کوئی متعین نصابِ شہادت نہیں؟ 3 تیسرا دعویٰ (غامدی صاحب کی طرف سے) یہ کیا گیا ہے کہ الزامِ زنا کے ثبوت کے لیے قرآن و حدیث میں کہیں بھی نصابِ شہادت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے چار گواہوں کو ضروری قرار دینا ہی سرے سے غلط ہے۔ الزامِ زنا کے ثبوت کے لیے ایک گواہ بھی کافی ہے، بلکہ قرائن کی [1] کتاب الأم (۶/ ۱۲۲)