کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 164
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور تضاد کی طرف توجہ مبذول کرا دی جائے، جو مذکورہ حضرات کے باہمی موقف میں پایا جاتا ہے اور وہ ہے آیتِ مُدَاینہ[1] کے مفہوم میں۔ ایک صاحب نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کو باہمی قرض کا معاملہ کرتے ہوئے جو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اُسے ضبطِ تحریر میں ضرور لائیں۔ نیز اس پر دو مرد گواہ یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لو۔ یہ حکم ایسا ہے کہ جو لَین دین ضبطِ تحریر کے بغیر ہو گا، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی اور اس قسم کے معاملات کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کے برعکس غامدی صاحب نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اموال و دیون میں پیش کردہ مذکورہ ہدایت محض ایک اَخلاقی تعلیم ہے، کوئی اصول، ضابطہ اور متعین نصابِ شہادت نہیں ہے، کیوں کہ بہت سے لوگ لکھنے اور گواہ بنانے کا اہتمام نہیں کرتے۔ اگر اسے اصول اور کلیہ مان لیا جائے گا تو ایسے بہت سے لوگوں کی داد رسی کا اہتمام ناممکن ہو گا۔ حالاں کہ یہ دونوں ہی موقف غلط ہیں۔ یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ اگر معاہدے کی تحریر نہیں ہوگی تو وہ معاہدہ ہی کالعدم سمجھا جائے گا، اس طرح تو بے شمار لوگوں کے حقوق ضائع ہوں گے۔ اسی طرح اس مفروضے پر کہ اس طرح تو بہت سے حقوق ضائع ہوں گے، سرے سے قرآن کے بیان کردہ اصول اور ضابطے کا انکار ہی کر دینا معقول طرزِ عمل نہیں ہے۔ ان دونوں موقفوں میں، جو اگرچہ ایک دوسرے سے یکسر متضاد ہیں، بنیادی طور پر ایک ہی مفروضہ کار فرما ہے کہ اگر معاہدہ تحریری نہ ہوا تو پھر جھگڑے [1] دیکھیں: سورۃ البقرۃ [آیت: ۲۸۲۔ ۲۸۳[