کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 155
کہ حدیث کو ضرور ہی ماننا پڑے گا۔ تنگ آکر فرمانے لگے: آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: موطا مالک! فرمایا: ہم اس کو مانتے ہیں، میں نے کہا: بس آج سے ہمارا نزاع ختم ہے، ہم آپ کو صحیح بخاری ماننے کے لیے مجبور نہیں کرتے۔‘‘[1] غامدی صاحب کے گمراہ نظریات کے جو متضاد دلائل ، بے بنیاد دعوے اور تعلّیات تھیں، الحمد ﷲ، اﷲ کے فضل اور اس کی توفیق سے ہم نے ان کی اصل حقیقت واضح کر دی ہے، جو اس شعر کی مصداق ہیں۔ ؎ بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا اگر اس طُرۂ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے جو بھی فریب خوردہ شخص اس مضمون کو طلبِ حق کی نیت صادقہ سے اور غیر جانب دارانہ انداز سے پڑھے گا، إن شاء اللّٰه اس پر ان افکارِ باطلہ کے پیچ و خم کی تہ در تہ تہیں کھلتی چلی جائیں گی اور احادیثِ رسول کی حجیت و اہمیت شرعی پر جو دبیز پردے ڈالنے کی مذموم سعی اس گروہ کی طرف سے کی گئی ہے اور مسلسل کی جا رہی ہے، وہ بھی بے نقاب ہوجائے گی۔ گمراہی کی وضاحت اور حق و صواب کی نشان دہی کی اس کوشش سے ہمارا مقصد اتمامِ حجت، ائمۂ سلف کے موقف کو نمایاں کرنے اور گم گشتگانِ راہِ ہدایت کو روشنی مہیا کرنے کے سوا کوئی اور نہیں۔ واللّٰه علی ما نقول شھید۔ تاکہ اس کے بعد !! {لِیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْم بَیِّنَۃٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْم بَیِّنَۃٍ} [الأنفال: ۴۲] [1] الفرقان [بریلی] (شاہ ولي اللّٰه نمبر، ص: ۲۸۷، مطبوعہ ۱۳۵۹ھـ)