کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 151
٭ پھر یہ دعویٰ دیکھیے: ’’جس طرح نقدِ حدیث کے علما اس کی صحیح و سقیم روایتوں میں امتیاز کر سکتے ہیں، اسی طرح اس کلام کے نقاد بھی روایت و درایت کے نہایت واضح معیارات کی بنا پر اس کے خالص اور منحول کو ایک دوسرے سے الگ کر دے سکتے ہیں۔‘‘[1] ’’نقدِ حدیث کے ذریعے سے صحیح و سقیم روایتوں میں امتیاز کیا جا سکتا ہے‘‘ علمائے اسلام تو اس بات کو مانتے ہیں، لیکن آپ تو اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، پھر اس کا حوالہ کیوں؟ پھر کلامِ عرب میں اصل اور جعلی کے پہچاننے کے ’’نہایت واضح معیارات‘‘ کیا ہیں اور کہاں ہیں؟ کیا اس کی نشاندہی کی جا سکتی ہے؟ حدیث، با سند کلامِ نبوی ہے، علاوہ ازیں اس کے پرکھنے کے اصول و ضوابط بھی موجود ہیں۔ پھر بھی وہ غیر مستند، اور کلامِ عرب، جس میں منحول (یعنی الحاقی اور جعلی) بھی ہے اور نقد و تحقیق کے کوئی اصول و ضوابط بھی نہیں۔ وہ سب سے زیادہ مستند اور قابلِ اعتماد؟ {تِلْکَ اِِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی} [النجم: ۲۲] ’’یہ تو اس وقت ناانصافی کی تقسیم ہے۔‘‘ بے انصافی اور ’’تحقیق‘‘ کا ایک اور نمونہ: ان مغالطات، تضادات، بلا دلیل دعوؤں کے ساتھ اب ان کی بے انصافی کا ایک اور نمونہ اور ’’تحقیق‘‘ کا ایک اور انداز بھی دیکھ لیں۔ محدثین نے حدیث کی سند کی تحقیق کے لیے جو اصول و ضوابط مقرر اور وضع کیے ہیں، ان کی تعریف [1] میزان (ص: ۱۹)