کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 149
جھوٹ اور بلا دلیل دعوے: اور بھی انھوں نے بلا دلیل دعوے کیے ہیں، جن کی کچھ تفصیل گزشتہ صفحات میں بھی گزری، مثلاً: ٭ رجم کی تعزیزی سزا کا مبنیٰ، آیتِ محاربہ ہے اور یہ بات وحیِ خفی کے ذریعے سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی گئی۔ اول تو موصوف وحیِ خفی سے کسی حکم کے اثبات کے قائل ہی نہیں ہیں اور پھر یہ سراسر جھوٹ اور بلا دلیل دعویٰ ہے۔ اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو کوئی حدیث پیش کریں۔ ٭ ان کا یہ دعویٰ بھی بلا دلیل ہے اور جھوٹ بھی کہ ائمہ سلف اور ان کے موقف میں سرِمو فرق نہیں ہے۔ ٭ ان کا دعویٰ ’’صرف کتاب و سنت تنقید سے بالا ہے۔‘‘ سراسر جھوٹ، فریب اور بلا دلیل ہے۔ سنتِ نبوی کو تو وہ مانتے ہی نہیں ہیں۔ ہاں سنتِ جاہلیہ کو وہ مانتے ہیں۔ اگر یہ ’’سنتِ جاہلیہ‘‘ جو ان کے نزدیک قرآن سے بھی مقدم ہے، ان کے نزدیک تنقید سے بالا ہے، تو یہ غامدی گروہ ہی کو مبارک ہو۔ اہلِ اسلام تو اس بات کو ماننے سے رہے۔ ٭ ’’امام فراہی کی ’’تحقیق‘‘، ’’قرآنی نصوص‘‘ پر مبنی ہے۔‘‘ سراسر جھوٹ، فریب اور بلا دلیل دعویٰ ہے۔ یہ تو قرآن میں تحریف معنوی ہے، اسے ’’قرآنی نصوص‘‘ کس طرح باور کیا جا سکتا ہے؟! ٭ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ اور غامدی قبیلے کی صحابیہ رضی اللہ عنہا ، ان کی بابت دعویٰ کہ وہ غنڈے، بدمعاش اور اوباش و آوارہ منش تھے، وہ عورت پیشہ ور