کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 144
کہ مسلمانوں کے حکمران صرف قریش میں سے ہوں گے۔ دراں حالیکہ یہ بات مان لی جائے تو اسلام اور برہمنیت میں کم سے کم سیاسی نظام کی حد تک کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ اس مغالطے کی وجہ محض یہ ہوئی کہ ایک بات جو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد کی سیاسی صورت حال کے لحاظ سے کہی گئی تھی، اسے دین کا مستقل حکم سمجھ لیا گیا۔‘‘[1] یہ محض علما پر طعنہ زنی ہے، علما نے اسے وہی کچھ سمجھا ہے، جس کی وضاحت خود انھوں نے کی ہے۔ علما نے اسے دین کا مستقل حکم نہیں سمجھا۔ اس کی جو وضاحت شیخ ابو زہرہ رحمہ اللہ نے علمائے اسلام کے موقف کی، تمام احادیث و آثار کی روشنی میں کی ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں: ’’نظر بریں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان اخبار و آثار سے قطعی و حتمی طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امامت قریش میں مقصور و محدود ہے اور اگر کوئی اور خلیفہ ہوگا تو اس کی خلافت، خلافتِ نبوت نہیں ہوگی۔ اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ اُمت کو مامور فرما رہے ہیں کہ خلافت صرف قریش تک محدود رہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا فرمان طلبِ وجوب کے لیے ہے، بلکہ آپ کا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ قریش کی امامت افضل ہے، نہ کہ کسی اور کی امامت صحیح نہیں۔ اس کی وجہ بخاری و مسلم کی یہ روایت ہے: 1۔ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے میرے دوست (نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے وصیت فرمائی کہ اگر تم پر ایک نکٹے حبشی کو بھی [1] میزان (ص: ۶۴)