کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 138
تھے، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی توضیح و تفصیل نہیں کی ہے، اگر کی بھی ہے تو ان کی کوئی حیثیت نہیں، اصل سنت تو ’’دینِ ابراہمی کی روایت ہے، جسے اصطلاح میں ’’سنت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔‘‘ اس سیاق میں دیکھ لیجیے ’’سنت‘‘ سے مراد سنتِ نبوی ہے، جو اہلِ اسلام میں متعارف ہے؟ یا اہلِ جاہلیت کی ’’سنت‘‘ ہے، جسے دینِ ابراہیمی کی روایت کا خوش نما عنوان دیا گیا ہے؟ موصوف نے ’’دینِ ابراہیمی کی روایت‘‘ کی جس طرح توضیح کی ہے، وہ تو اس وقت تک اہلِ جاہلیت ہی کی ’’سنت‘‘ سمجھی جائے گی، جب تک وہ عربوں کے طریقۂ نماز و زکات کی تفصیل بھی بیان نہیں کریں گے، کیوں کہ قرآن نے مجمل طور پر تو بعض چیزوں کی بابت یقینا وضاحت کی ہے کہ پچھلی شریعتوں میں بھی ان کا سلسلہ تھا، جیسے قربانی کا تصور حضرت آدم کے زمانے ہی سے ملتا ہے۔ نماز، زکات، روزہ، حج و عمرہ کا بھی ذکر ملتا ہے، مگر محض ان چند چیزوں کے ناموں کے ذکر سے کیا یہ معلوم ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے کہ وہ نماز کس طرح پڑھتے تھے؟ زکات ادا کرنے کی کیا صورت تھی؟ حج، عمرہ کس طرح کرتے تھے؟ روزہ کس طرح رکھتے تھے؟ وغیرہ وغیرہ۔ ان کا طریقہ اور ان کی تفصیلات تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے بیان فرمائی ہے، جس سے جان چھڑانے کے لیے یہ سارے پاپڑ بیلے جا رہے ہیں، لیکن ان بے معنی سخن سازیوں اور یکسر بے بنیاد دعوؤں اور باتوں سے تو احادیث کی تشریعی حیثیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا ع پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا غامدی صاحب چاہتے ہیں، سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، حدیثِ رسول کی تشریعی حیثیت بھی ایک سوالیہ نشان بن جائے اور اس کا الزام