کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 135
صحابہ نے صرف ان ۲۷ اعمال ہی کو سنت سمجھ کر عمل کیا اور دوسرے تمام اعمال کو غیر سنت سمجھ کر عمل نہیں کیا۔ اگر صحابہ نے بغیر تحدید (حد بندی) کے ہر سنت و حدیث پر عمل کیا ہے اور یقینا انھوں نے ایسا ہی کیا ہے اور اس کا ثبوت کتابوں میں محفوظ احادیثِ نبویہ ہیں اور صحابہ کو دیکھ کر تابعین و تبع تابعین نے کیا۔ وَھَلُمَّ جَرَّا۔ اسی طرح تمام احادیثِ رسول پر تمام صحیح العقیدہ والعمل مسلمان عمل کرتے آرہے ہیں۔ اس اعتبار سے تمام صحیح احادیث عملی تواتر کا نمونہ ہیں۔ اب یہ غامدی گروپ کی ذمے داری ہے کہ وہ اس ذخیرۂ احادیث سے ماورا، اپنی ۲۷ سنتوں کا تحریری ثبوت نسل در نسل کے حساب سے پیش کرے، جیسے الحمدﷲ ہمارے پاس تمام سنتوں (حدیثوں) کا نسلاً بعد نسلٍ تحریری ثبوت موجود ہے۔ 4 غامدی صاحب کے نزدیک ’’سنت‘‘ کیا ہے؟ اس کی وضاحت غامدی صاحب نے اپنی مایۂ ناز کتاب ’’میزان‘‘ میں پوری تفصیل سے کی ہے۔ اقتباس اگرچہ طویل ہے، لیکن انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں تو بہتر ہے، تاکہ دنیا دیکھ لے کہ ان کے موقف اور ائمہ سلف کے موقف میں کتنا بعد المشرقین ہے اور ان کے درمیان اتنی وسیع خلیج حائل ہے، جسے لفاظی اور سخن سازی سے پاٹنا ناممکن ہے۔ موصوف اپنی نو دریافت ۲۷ سنتوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ قرآن سے پہلے ہی: ’’(عرب معاشرے میں) یہ سب چیزیں پہلے سے رائج، معلوم و متعین اور نسلاً بعد نسلٍ جاری ایک روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھی، چناں چہ اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآن ان کی تفصیل کرتا۔ لغتِ عرب میں جو الفاظ ان کے لیے مستعمل تھے،