کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 129
کا باہمی تناقض ہے، جسے نہ ان پچھلی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص کبھی دور کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور نہ اب ہو سکتا ہے۔‘‘[1] غامدی صاحب کا انصاف بھی ملاحظہ ہو اور عقل و دانش کی مقدار بھی (جس کی وہ مدارسِ دینیہ سے نفی کرتے ہیں۔ [برھان، ص: ۸۵]) کہ جن روایات کو ہدفِ تنقید بنا کر ان کو ردّ کیا ہے، ان میں سب سے پہلی روایت وہی ہے، جس کو خود اپنے استدلال میں انھوں نے پیش کیا ہے۔ اگر ان میں عقل و دانش کی تھوڑی سی بھی مقدار ہوتی تو وہ ان ’’مجروح اور مطعون‘‘ روایات میں کم از کم اس روایت کو تو شامل نہ کرتے، جس کو خود انھوں نے بنائے استدلال بنایا ہے۔ اور ان کا انصاف بھی دیکھیے کہ ایک طرف فرما رہے ہیں کہ ’’ان روایات کا باہمی تناقض پچھلی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص کبھی دور کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور نہ اب ہو سکتا ہے۔‘‘ لیکن پھر خود ہی عبادہ بن صامت کی ’’مجروح و مطعون‘‘ روایت کا تضاد بھی ایک توجیہ پیش کر کے دور کر دیا ہے۔ چہ خوب؟ آپ تیرہ صدیوں کے ائمہ، فقہا اور محدثین کی بابت نہایت بلند آہنگی سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ان کا باہمی تناقض دور نہیں کر سکے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کے اس دعوے کو آپ ہی کی ’’زبانِ مبارک‘‘ سے غلط ثابت کر دیا۔ آپ نے جو ایک روایت کی توجیہ کر کے اس کا تناقض دور کیا ہے، یہ حل آپ کا نہیں ہے، ائمہ سلف ہی کا ہے، اسی لیے تو تمام روایاتِ رجم تیرہ صدیوں ہی سے نہیں، چودہ صدیوں سے مسلّم چلی آرہی ہیں۔ کسی امام، فقیہ، محدث نے نہیں کہا کہ روایاتِ رجم باہم متناقض ہونے کی وجہ سے ناقابلِ اعتبار ہیں، اس لیے کہ جن باہم [1] برہان (ص: ۶۰)